مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 288
چکا ہوں اور بحث کے لیے طیار بیٹھا ہوں مصائب سفراُٹھا کر اور دہلی والوں سے ہر روز گالیوں اور لعن طعن کی برداشت کر کے محض آپ سے بحث کرنے کے لیے اے شیخ الکل صاحب! بیٹھا ہوں۔یہ عذر کوئی عقلمند قبول نہیں کرے گا کہ آپ کے یک طرفہ جلسہ میں عاجز حاضر نہ ہو سکا۔اگر آپ حق پر ہیں اور آپ کو اس بات کا یقین ہے کہ درحقیقت قرآن کریم کی آیات صریحہ قطعیۃ الدلالت اور احادیث صحیحہ مرفوعہ کے منطوق سے حضرت مسیح ابن مریم کا زندہ بجسدہ العنصری آسمان پر اُٹھائے جانا متحقق اور ثابت شدہ امر ہے تو ایسی رکیک باتوں کا فتح نام رکھنا سخت نامردی ہے۔بسم اللہ آئیے اور اپنا وہ عجیب ثبوت دکھلایئے! اگر آپ ایسے وقت میں جو تمام ملک ہند میں میری طرف سے بدلائل شافیہ یہ اشاعت ہو گئی ہے کہ درحقیقت مسیح ابن مریم کا زندہ بجسدہِ العنصری اُٹھائے جانا قرآن و حدیث سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ وہ فوت ہو چکا ہے اور جو شخص ان کی جسمانی دنیوی زندگی کا مدعی ہے وہ جھوٹا و کذاب ہے۔میدان میں آکر حضرت مسیح ابن مریم کی جسمانی دنیوی زندگی کا ثبوت نہیں دیں گے تو پھر آپ کس مرض کی دوا ہیں اور شیخ الکل کیوں اپنے شاگردوں سے کہلاتے ہیں۔حضرت بحث کرنے کے لیے باہر تشریف لائیے کہ میں بحث کے لیے تیار ہوں۔آپ کیوں مقتدا اور شیخ الکل ہونے کی حالت میں بحث کرنے سے کنارہ کرتے اور حق الامر کو چھپاتے ہیں اور حق کو اس کے ظہور سے روکتے ہیں اورنہیں چاہتے کہ حق کھل جائے۔آپ کو ڈرنا چاہیے۔ کا مصداق نہ ہو جائیں۔کیونکہ جس حالت میں آپ کے مقابل آنے سے حق کھلتا ہے اور آپ کوٹھری میں چھپے بیٹھے ہیں تو پھر آپ کے مصداق ہوئے یا کچھ اَور ہوئے۔پس آپ خدا تعالیٰ سے ڈریں اور بحث کے میدان میں آ کر یہ کوشش کریں کہ حق کھل جائے اور گریز اور فرار اختیار نہ کریں یا کا مصداق نہ بن جائیں۔اور مَیں تو یا حضرت!! اس عظیم الشّان بحث کے لیے حاضر ہوں اور ہرگز تخلّف نہ کروں گا۔لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلٰی مَنْ تَخَلَّفَ وَ صَدَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔اب میں یا حضرت؟ !!پھر اللہ جَلّ شَانُـہٗ کی آپ کو قسم دے کر اس بحث کے لیے بُلاتا ہوں جس جگہ چاہیں حاضر ہو جائوں، مگر تحریری بحث ہو گی تا کسی محرف کو تحریف کی گنجائش نہ ہو۔اور ملک ہند کے تمام اہل نظر کو