مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 231
چنانچہ ارباب کشف میں سے سب سے قدم بڑھا ہوا حضرت ابن عربی قدّس سرہٗ کا ہے۔اور بعض مکاشفات سیّد عبد القادر جیلانی قدّس سرہٗ بھی ایسے ہیں جو احادیث صحیحہ سے منافی و مغائر ہیں چنانچہ ابن تیمیہ کا قول ہے کہ احادیث صحیحہ کی رو سے اس بات پر اجماع ہوچکا ہے کہ ذبیح اسماعیل ہیںمگر سیّد عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ اسحاق ؑ کو ذبیح ٹھہراتے ہیں۔ایسا ہی قریب اجماع کے یہ عقیدہ بھی ہے جو کتب سابقہ توریت وغیرہ میں تحریف لفظی ہو گئی ہے۔مگر حضرت محمد اسماعیل رئیس المحدثین اس اجماع کے مخالف ہیں۔اب ظاہر ہے کہ اگر ان تمام جزئیات میں بطریق مباہلہ فیصلہ کرنا جائز ہوتا تو خدا تعالیٰ ہرگز اس اُمّت کو مہلت نہ دیتا کہ اب تک وہ دنیا میں قائم رہ سکتی۔ذرا سوچ کر دیکھنا چاہیے کہ چونکہ درحقیقت حالت اسلام کی خیر القرون سے ہی ایسی واقعہ ہو گئی ہے کہ حنفی مذہب شافعی مذہب سے صدہا جزئیات میں اختلاف رکھتا ہے ایسا ہی شافعی مالکی سے اور مالکی حنبلی سے سینکڑوں جزئی مسائل میں مختلف ہے اور محد ثین کو بھی کسی ایک مذہب سے بکلّی مطابقت نہیں ہے اور پھر وہ بھی باہم جزئیات کثیرہ میں اختلاف رکھتے ہیں۔اِدھر اہلِ کشف کے اختلافات کا بھی ایک دفتر ہے یہاںتک کہ بعض نے نبوتِ تامّہ کے سلسلہ کو منقطع نہیں سمجھا۔جاودانی عذاب کے قائل نہیں ہوئے۔اور ظاہر ہے کہ ان میں سے کوئی ایسا مذہب نہیں کہ جو جزئیات کے اختلاف میں غلطی اور خطاء کے احتمال سے خالی ہو۔اب اگر فرض کریں کہ ان سب میں اختلافات جزئیہ کی وجہ سے مباہلہ واقع ہو اور خداوندتعالیٰ مُخطی پر عذاب نازل کرے تو بلا شبہ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تمام متفرق فرقے اسلام کے صفحہء زمین سے یک لخت نابود ہوں۔پس ہر ایک عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا ہرگز منشاء نہیں کہ اہلِ اسلام ان تمام اختلافات جزئیہ کی وجہ سے ہلاک کئے جائیں۔سو ایسے مباہلات سے اسلام کو کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔اور اگر یہ عند اللہ جائز ہوتا تو اسلام کا کب سے خاتمہ ہو جاتا۔اس کے جواب میں میاںعبد الحق صاحب اپنے دوسرے اشتہار میں اس عاجز کو یہ لکھتے ہیں کہ اگر مباہلہ مسلمانوں سے بوجہ اختلافات جزئیہ جائز نہیں تو پھر تم نے مولوی محمد اسماعیل سے رسالہ فتح اسلام میں کیوں مباہلہ کی درخواست کی۔سو انہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ درخواست کسی جزئی اختلاف کی