مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 211
مسلمانوں کو انواع و اقسام کے اختلافات اور غِلّ اور حِقد اور نِزَاع اور فساد اور کینہ اور بُغض سے جس نے ان کو بے برکت و نکمّا و کمزور کر دیا ہے۔نجات دے کر ۱؎ کا مصداق بنا دے۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض فوائد و منافع بیعت کہ جو آپ لوگوں کے لیے مقدر ہیں۔اس انتظام پر موقوف ہیں کہ آپ سب صاحبوں کے اسماء مبارکہ ایک کتاب میں بقید ولدیت و سکونت مستقل و عارضی اور کسی قدر کیفیت کے (اگر ممکن ہو) اندراج پاویں۔اور پھر جب وہ اسماء مندرجہ کسی تعداد موزوں تک پہنچ جائیں تو ان سب ناموں کی ایک فہرست تیار کر کے اور چھپوا کر ایک ایک کاپی اس کی تمام بیعت کرنے والوں کی خدمت میں بھیجی جاوے اور پھر جب دوسرے وقت میں نئی بیعت کرنے والوں کا ایک معتدبہ گروہ ہو جاوے تو ایسا ہی ان کے اسماء کی بھی فہرست تیار کر کے تمام مبائعین یعنی داخلینِ بیعت میں شائع کی جائے اور ایسا ہی ہوتا رہے جب تک ارادئہ الٰہی اپنے اندازہ مقدرہ تک پہنچ جائے۔یہ انتظام جس کے ذریعہ سے راستبازوں کا گروہِ کثیر ایک ہی سلک میں منسلک ہو کر وحدت مجموعی کے پیرائے میں خلق اللہ پر جلوہ نما ہو گا اور اپنی سچائی کے مختلف المخرج شعاعوں کو ایک ہی خط ممتد میں ظاہر کر ے گا خداوند عزّوجلّ کو بہت پسند آیا ہے۔مگر چونکہ کارروائی بجز اس کے بآسانی و صحت انجام پذیر نہیں ہو سکتی کہ خود مبائعین اپنے ہاتھ سے خوشخط قلم سے لکھ کر اپنا تمام پتہ و نشان بتفصیل مندرجہ بالا بھیج دیں اس لیے ہر ایک صاحب کو جو صدق دل اور خلوص تام سے بیعت کرنے کے لیے مستعد ہیں تکلیف دی جاتی ہے کہ وہ بتحریر خاص اپنی پورے پورے نام و ولدیت بقیہ حاشیہ۔بیان کرنے میں فرمایا ہے۔ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ۔یہ نہیں فرمایا کہ ھُدًی لِّلْفَاسِقِیْنَ یا ھُدًی لِّلْکَافِرِیْنَ۔ابتدائی تقویٰ جس کے حصول سے متقی کا لفظ انسان پر صادق آ سکتا ہے۔وہ ایک فطرتی حصہ ہے کہ جو سعیدوں کی خلقت میں رکھا گیا ہے اور رَبوبیت اُولیٰ اس کی مربی اور وجود بخش ہے جس سے متقی کاپہلا تولّد ہے مگر وہ اندرونی نُور جو روح القدس سے تعبیر کیا گیا ہے وہ عبودیت خالصہ تامّہ اور ربوبیّتِ کاملہ مستجمعہ کے پورے جوڑ و اتصال سے بطرز ثُمَّ اَنْشَأْنَاہُ خَلْقًا اٰخَرَ کے پیدا ہوتا ہے اور یہ ربوبیّت ثانیہ ہے جس سے متقی تولّد ثانی پاتا ہے اور ملکوتی مقام پر پہنچتا ہے اور اس کے بعد ربوبیّتِ ثالثہ کا درجہ ہے جو خلق جدید سے موسوم ہے جس سے متقی لاہوتی مقام پر پہنچتا ہے اور تولّد ثالث پاتا ہے۔فَتَدَبَّرْ۔منہ ۱؎ اٰلِ عمران: ۱۰۴