مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 187
غور سے پڑھیں اور پھر آپ ہی انصاف کریں۔جب یہ لڑکا جو فوت ہو گیا ہے پَیدا ہواتھا تو اس کی پَیدائش کے بعد صدہا خطوط اطرافِ مختلفہ سے بدیں استفسار پہنچے تھے کہ کیا یہ وہی مصلح موعود ہے جس کے ذریعہ سے لوگ ہدایت پائیں گے تو سب کی طرف یہی جواب لکھا گیا تھا کہ اس بارے میں صفائی سے اب تک کوئی الہام نہیں ہوا۔ہاں اجتہادی طور پر گمان کیا جاتا تھا کہ کیا تعجب کہ مصلح موعود یہی لڑکا ہو اور اس کی و جہ یہ تھی کہ اس پسرِ متوفی کی بہت سی ذاتی بزرگیاں الہامات میں بیان کی گئی تھیں جو اس کی پاکیزگی رُوح اور بلندی فطرت اور علوّ استعداد اور روشن جوہری اور سعادتِ جبلّی کے متعلق تھیں اور اس کی کاملیّت استعدادی سے علاقہ رکھتی تھیں۔سو چونکہ وہ استعدادی بزرگیاں ایسی نہیں تھیں جن کے لئے بڑی عمر پانا ضروری ہوتا اسی باعث سے یقینی طور پر کسی الہام کی بنا پر اِس رائے کو ظاہر نہیں کیا گیاتھا کہ ضرور یہ لڑکا پختہ عمر تک پہنچے گا اور اسی خیال اورانتظار میں سراج منیر کے چھاپنے میں توقف کی گئی تھی تا جب اچھی طرح الہامی طور پر لڑکے کی حقیقت کھل جاوے تب اس کا مفصّل اور مبسوط حال لکھا جائے۔سو تعجب اور نہایت تعجب کہ جس حالت میں ہم اب تک پسرِ متوفی کی نسبت الہامی طور پر کوئی قطعی رائے ظاہر کرنے سے بکلّی خاموش اور ساکت رہے اور ایک ذرا سا الہام بھی اس بارے میں شائع نہ کیا تو پھر ہمارے مخالفوں کے کانوں میں کس نے پھونک مار دی کہ ایسا اشتہار ہم نے شائع کردیا ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ اگر ہم اس خیال کی بنا پر کہ الہامی طور پر ذاتی بزرگیاں پسرِ متوفی کی ظاہر ہوئی ہیں اور اس کا نام مبشر اور بشیر اور نور اللہ، صیب اور چراغ دین وغیرہ اسماء مشتمل کاملیت ذاتی اورروشنی فطرت کے رکھے گئے ہیں کوئی مفصّل و مبسُوط اشتہار بھی شائع کرتے اور اس میں بحوالہ اُن ناموں کے اپنی یہ رائے لکھتے کہ شاید مصلح موعود اور عمر پانے والا یہی لڑکا ہو گا۔تب بھی صاحبانِ بصیرت کی نظر میں یہ اجتہادی بیان ہمارا قابلِ اعتراض نہ ٹھہرتا کیونکہ ان کا منصفانہ خیال اور اُن کی عارفانہ نگاہ فی الفور انہیں سمجھا دیتی کہ یہ اجتہاد صرف چند ایسے ناموں کی صورت پر نظر کر کے کیا گیا ہے جو فِیْ حَدِّ ذَاتِہٖ