مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 186 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 186

ہے اشتہارات مذکورہ کے حوالہ سے اعتراض تو کر دیا مگر ذراآنکھیں کھول کر اُن تینوں اشتہاروں کو پڑھ نہ لیا تا جلد بازی کی ندامت سے بچ جاتا۔نہایت افسوس ہے کہ ایسے دروغ باف لوگوں کو آریوں کے وہ پنڈت کیوں دروغ گوئی سے منع نہیں کرتے جو بازاروں میں کھڑے ہو کر اپنا اصول یہ بتلاتے ہیں کہ جھوٹ کو چھوڑنا اور تیاگنا اور سچ کو ماننا اور قبول کرنا آریوں کا دھرم ہے۔پس عجیب بات ہے کہ یہ دھرم قول کے ذریعہ سے تو ہمیشہ ظاہر کیا جاتا ہے مگر فعل کے وقت ایک مرتبہ بھی کام میں نہیں آتا۔افسوس ہزار افسوس!! اب خلاصہ کلام یہ کہ ہر دو اشتہار ۸ ؍اپریل ۱۸۸۶ء اور ۷؍ اگست ۱۸۸۷ء مذکورہ بالا اس ذکر و حکایت سے بالکل خاموش ہیں کہ لڑکا پیدا ہونے والا کیسا اورکِن صفات کا ہے۔بلکہ یہ دونوں اشتہار صاف شہادت دیتے ہیں کہ ہنوز یہ امر الہام کی رُو سے غیر منفصل اور غیر مصرح ہے۱؎ ہاں یہ تعریفیں جو اُوپر گزر چکی ہیں ایک آنے والے لڑکے کی نسبت عام طور پر بغیر کسی تخصیص و تعیین کے اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء میں ضرور بیان کی گئی ہیں لیکن اُس اشتہار میں یہ تو کسی جگہ نہیں لکھا کہ جو ۷؍ اگست ۱۸۸۷ء کو لڑکا پَیدا ہو گا وہی مصداق ان تعریفوں کا ہے بلکہ اِس اشتہار میں اُس لڑکے کے پیدا ہونے کی کوئی تاریخ مندرج نہیں کہ کب اور کس وقت ہو گا پس ایسا خیال کرناکہ ان اشتہارات میں مصداق ان تعریفوں کا اِسی پسر متوفی کو ٹھہرایا گیا تھا سراسر ہٹ دھرمی اور بے ایمانی ہے۔یہ سب اشتہارات ہمارے پاس موجود ہیں اور اکثر ناظرین کے پاس موجود ہوں گے۔مناسب ہے کہ ان کو ۱؎ حاشیہ۔عبارت اشتہار ۸ ؍اپریل ۱۸۸۶ء یہ ہے کہ ’’ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے جو ایک مُدّتِ حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا لیکن یہ ظاہر نہیں کیا گیا جو اَب پَیدا ہو گا یہ وہی لڑکا ہے یا وہ کسی اور وقت میں ۹ برس کے عرصہ میں پَیدا ہو گا ‘‘۔دیکھو اشتہار ۸؍ اپریل ۱۸۸۶ء مطبع چشمہ فیض قادری بٹالہ۔عبارت اشتہار ۷؍ اگست ۱۸۸۷ء یہ ہے۔’’اے ناظرین میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ وہ لڑکا جس کے تولّد کے لئے میںنے اشتہار ۸؍ اپریل ۱۸۸۶ء میں پیشگوئی کی تھی وہ ۱۶ ؍ذیقعدہ مطابق ۷؍ اگست میں پیدا ہو گیا۔دیکھو اشتہار ۷؍ اگست ۱۸۸۷ء مطبوعہ وکٹوریہ پریس لاہور۔پس کیا اِن تینوں اشتہارات میں جو لیکھرام پشاوری نے جوش میں آ کر پیش کی ہیں بُو تک بھی اس بات کی پائی جاتی ہے کہ ہم نے کبھی پسرِمتوفّی کو مصلح موعود اور عمرپانے والا قرار دیا ہے۔فَتَفَکَّرُوْا فَتَدَبَّرُوْا۔