مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 179
حادثہ اس سے پوشیدہ رکھنے کے لیے تاکید کی۔۱؎ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ایک خانگی معاملہ تھا اور جن کے لیے یہ نشان تھا ان کو تو پہنچا دیا گیا تھا اور یقین تھا کہ والد اس دُختر کا ایسی اشاعت سے رنجیدہ ہو گا۔اس لیے ہم نے دل شکنی اور رنج دہی سے گریز کی، بلکہ یہ بھی نہ چاہا کہ در حالت ردّ و انکار وہ بھی اس امر کو شائع کریں اور گو ہم شائع کرنے کے لیے مامور تھے مگر ہم نے مصلحتاً دوسرے وقت کی انتظار کی یہاں تک کہ اس لڑکی کے ماموں مرزا نظام الدین نے جو مرزا امام الدین کا حقیقی بھائی ہے۔شدّت غیظ وغضب میں آ کر اس مضمون کو آپ ہی شائع کر دیا۔اور شائع بھی ایسا کیا کہ شاید ایک یا دو ہفتہ تک دس ہزار مرد و عورت تک ہماری درخواست نکاح اور ہمارے مضمون الہام سے بخوبی اطلاع یاب ہو گئے ہوں گے۔اور پھر زبانی اشاعت پر اکتفا نہ کر کے اخباروں میں ہمارا خط چھپوایا اور بازاروں میں ان کے دکھلانے سے وہ خط جابجا پڑھا گیا۔اور عورتوں اور بچوں تک اس خط کے مضمون کی منادی کی گئی۔اب جب مرزا نظام الدین کی کوشش سے وہ خط ہمارا نور افشاں میں بھی چھپ گیا اور عیسائیوں نے اپنے مادہ کے موافق بے جا افترا کرنا شروع کیا۔تو ہم پر فرض ہو گیا کہ اپنی قلم سے اصلیت کو ظاہر کریں۔بد خیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لیے ہماری پیشگوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا، اور نیز یہ پیشگوئی ایسی بھی نہیں کہ جو پہلے پہل اسی وقت میں ہم نے ظاہر کی ہے بلکہ مرزا امام الدین و نظام الدین اور اس جگہ کے تمام آریہ اور نیز لیکھرام پشاوری اور صدہا دوسرے لوگ خوب جانتے ہیں کہ کئی سال ہوئے کہ ہم نے اسی کے متعلق مجملاً ایک پیشگوئی کی تھی یعنی یہ کہ ہماری برادری میں سے ایک شخص احمد بیگ نام فوت ہونے والا ہے۔اب منصف آدمی سمجھ سکتا ہے کہ وہ پیشگوئی اس پیشگوئی کا ایک شعبہ تھی یا یوں کہو کہ یہ تفصیل اور وہ اجمال تھی اور اس میں تاریخ اور مدت ظاہر کی گئی۔اور ۱؎ یہ الہام جو شرطی طور پر مکتوب الیہ کی موت فوت پر دلالت کرتا تھا۔ہم کو بالطبع اس کی اشاعت سے کراہت تھی بلکہ ہمارا دل یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس سے مکتوب الیہ کو مطلع کریں مگر اُس کے کمال اصرار سے جو اس نے زبانی اور کئی انکساری خطوں کے بھیجنے سے ظاہر کیا ہم نے سراسر سچی خیر خواہی اور نیک نیتی سے اس پر یہ امر سربستہ ظاہر کر دیا۔پھر اُس نے اور اس کے عزیز مرزا نظام الدین نے اس الہام کے مضمون کی آپ شہرت دی۔منہ