مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 117
پیشگوئی ان پوشیدہ بھیدوں کی خبر آپ کو دیتا ہے یا ایسے عجیب طور سے آپ کی مدد اور حمایت کرتا ہے جیسے وہ قدیم سے اپنے بر گزیدوں اور مقربوں اور بھگتوں اور خاص بندوں سے کرتا آیا ہے۔سو آپ سوچ لیں کہ ہماری اس درخواست میں کچھ ہٹ دھری اور ضد نہیں ہے۔اور اس جگہ ایک اور بات واجب العرض ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ یہ بھی شرط لگاتے ہیں کہ شخص مشاہدہ کنندہ کسی نشان کے دیکھنے کے بعد اسلام کو قبول کرے۔سو اس قدر تو ہم مانتے ہیں کہ سچ کے کھلنے کے بعد جھوٹ پر قائم رہنا دھرم نہیں ہے اور نہ ایسا کام کسی بھلے منش اور سعید الفطرت سے ہو سکتا ہے، لیکن مرزا صاحب آپ اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ ہدایت پا جانا خود انسان کے اختیار میں نہیں ہے جب تک توفیق ایزدی اس کے شامل حال نہ ہو۔کسی دل کو ہدایت کے لئے کھول دینا ایک ایسا امر ہے جو صرف پر میشر کے ہاتھ میں ہے۔سو ہم لوگ جو صدہا زنجیروں، قوم، برادری، ننگ و ناموس وغیرہ میں گرفتارہیں کیونکر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم خود اپنی ہی قوت سے ان زنجیروں کو توڑ کر اور اپنے سخت دل کو آپ ہی نرم کر کے آپ ہی دروازئہ ہدایت اپنے نفس پر کھول دیں گے اور جو پرمیشر سرب شکتی مان کا خاص کا م ہے وہ آپ ہی کر دکھائیں گے بلکہ یہ بات سعادت ازلی پر موقوف ہے۔جس کے حصہ میں وہ سعادت مقدر ہے اس کے لیے شرائط کی کیا حاجت ہے۔اس کو تو خود توفیق ازلی کشاں کشاں چشمۂ ہدایت تک لے آئے گی ایسا کہ آپ بھی اس کو روک نہیں سکتے۔اور آپ ہم سے ایسی شرطیں موقوف رکھیں۔اگر ہم لوگ کوئی آپ کا نشان دیکھ لیں گے تو اگر ہدایت پانے کے لیے توفیق ایزدی ہمارے شامل حال ہوئی تو ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں اور پر میشر کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اس قدر تو ہم ضرور کریں گے کہ آپ کے اُن نشانوں کو جو ہم بچشم خود مشاہدہ کر لیں گے۔چند اخباروں کے ذریعہ سے بطور گواہ رؤیت شائع کرا دیں گے اور آپ کے منکرین کو ملزم و لاجواب کرتے رہیں گے۔اور آپ کی صداقت کی حقیقت کو حتی الوسع اپنی قوم میں پھیلائیں گے۔اوربلاشبہ ہم ایک سال تک عند الضرورت آپ کے مکان پر حاضر ہوکر ہرایک قسم کی پیشگوئی وغیرہ پر دستخط بقید تاریخ و روز کر دیا کریں گے اور کوئی بدعہدی اور کسی قسم کی نامنصفانہ حرکت ہم سے ظہور میں نہیں آئے گی ہم سراسر سچائی اور راستی سے اپنے پرمیشر کو حاضر ناظر