مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 116
ساہوکاران و دیگر ہندو صاحبان قادیان کا خط بنام مرزا صاحب ؑ مرزا صاحب مخدوم و مکرم مرزا غلام احمد صاحب سَلَّمَہٗ بعدما وجب بکمال۔۔۔۔۔۔۔۔ادب عرض کی جاتی ہے کہ جس حالت میں آپ نے لنڈن اور امریکہ تک اس مضمون کے رجسٹری شدہ خط بھیجے ہیں کہ جو طالبِ صادق ہو اور ایک برس تک ہمارے پاس آکر قادیان میں ٹھہرے تو خدائے تعالیٰ اس کو ایسے نشان دربارہ اثبات حقیّتِ اسلام ضرور دکھائے گا کہ جو طاقتِ انسانی سے بالاتر ہوں۔سو ہم لوگ جو آپ کے ہم سایہ اور ہم شہری ہیں۔لندن اور امریکہ والوں سے زیادہ تر حق دار ہیں۔اور ہم آپ کی خدمت میں قسمیہ بیان کرتے ہیں جو ہم طالب صادق ہیں۔کسی قسم کا شر اور عناد جو بمقتضائے نفسانیت یا مغائرت مذہب نا اہلوں کے دلوں میں ہوتا ہے وہ ہمارے دلوں میں ہرگز نہیں ہے اور نہ ہم بعض نامنصف مخالفوں کی طرح آپ سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ ہم صرف ایسے نشانوں کو قبول کریں گے کہ جو اس قسم کے ہوں کہ ستارے اور سُورج اور چاند پارہ پارہ ہو کر زمین پر گر جائیں یا ایک سُورج کی جگہ تین سورج اور ایک چاند کی جگہ دو چاند ہو جائیں یا زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو کر آسمان سے جا لگے۔یہ باتیں بلاشبہ ضدیّت اور تعصب سے ہیں نہ حق جوئی کی راہ سے لیکن ہم لو گ ایسے نشانوں پر کفایت کرتے ہیں جن میں زمین و آسمان کے زیر و زبر کرنے کی حاجت نہیں اور نہ قوانین قدرتیہ کے توڑنے کی کچھ ضرورت۔ہاں ایسے نشان ضرور چاہئیں جو انسانی طاقتوں سے بالا تر ہوں۔جن سے یہ معلوم ہو سکے کہ وہ سچا اور پاک پر میشر بو جہ آپ کی راست بازی دینی کے عین محبت اور کرپا کی راہ سے آپ کی دُعائوں کو قبول کر لیتا ہے اور قبولیتِ دُعا سے قبل از وقوع اطلاع بخشتا ہے یا آپ کو اپنے بعض اسرار خاصہ پر مطلع کرتا ہے۔اوربطور