مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 104

وقو ع میں آئی کہ آپ نے اوّل لاہور میں پہنچ کر اس خاکسار کی طرف اس مضمون کا خط ۱؎ لکھا کہ میں آسمانی نشانوں کے دیکھنے کے لیے ایک سال تک قادیان میں ٹھہرنا منظور کرتا ہوں مگر اس شرط سے کہ پہلے چوبیس سو روپیہ نقد میرے لیے بنک سرکاری میں جمع کرایا جائے اور اب میں لاہور میں مقیم ہوں۔اور سات دن تک اس خط کے جواب کا انتظار کروں گا۔پھر جب حسب تحریر آپ کے اندر میعاد سات دن کے وہ روپیہ لاہور میں آپ کی خدمت میں بھیجا تو آپ میعاد کے گزرنے سے پہلے ہی فریدکوٹ کی طرف تشریف لے گئے۔تو اب وعدہ خلافی اور کنارہ کشی اور عہد شکنی اور رُوپوشی آپ سے ظہور میں آئی یا مجھ سے۔اور جبکہ میں نے بمجرد طلب کرنے آپ کے اس قدر رقم کثیر جو چوبیس سو روپیہ ہے۔بنک سرکاری میں جمع کرانے کے لئے پیش کر دی تا بحالت مغلوب ہونے میرے کے وہ سب روپیہ آپ کو مل جائے۔تو کیا کوئی منصف آدمی گریز کا الزام مجھ کو دے سکتا ہے۔لیکن آپ فرما ویں کہ آپ کے پاس اس بات کا کیا جواب ہے کہ جس حالت میں آپ کو رجسٹری شدہ خط بھیجا گیا تھا اور لکھا گیا تھا کہ اگر آپ ایک سال تک قادیان میں ٹھہریں تو ضرور خداوند کریم اثبات حقیّتِ اسلام میں کوئی آسمانی نشان آپ کو دکھائے گا اور اگر اس عرصہ تک کوئی نشان ظاہر نہ ہو تو چوبیس سو روپیہ نقد بطور جرمانہ یا ہرجانہ آپ کو دیا جائے گا۔اور اگر عرصہ مذکورہ میں کوئی نشان دیکھ لیں تو اسی جگہ قادیان میں مسلمان ہو جائیں۔چنانچہ ہم نے آپ کی تسلّی کے لیے چوبیس سو روپیہ نقد بھیج دیا۔اور جو ہم پر فرض تھا اس کو پورا کر دکھایا تو آپ نے ہماری اس حجت کے اُٹھانے کے لیے جو آپ پر وارد ہو چکی تھی کیا کوشش کی؟ اگر ہم آپ کے خیال میں جھوٹے تھے۔تو کیوں آپ نے ہمارے مقابلہ سے منہ پھیر لیا؟ آپ پر واجب تھا کہ قادیان میں ایک سال تک رہ کر اس خاکسار کا جھوٹ ثابت کرتے کیونکہ اس میں آپ کا کچھ خرچ نہ تھا۔آپ کو چوبیس سو روپیہ نقد ملتا تھا، مگر آپ نے اس طرف تو رُخ بھی نہ کیا۔اور یوں ہی لاف و گزاف کے طور پر اپنے اشتہار میں لکھ دیا کہ جو آسمانی نشانوں کا دعویٰ ہے یہ بے اصل محض ہے۔۱؎ نوٹ۔منشی صاحب اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ (آپ حسب وعدہ اشتہار مشتہرہ بحساب دو سو روپیہ