مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 96
ظاہر ہوتا ہے کہ بہت ہی کم ترقی ہوئی (یعنی ابھی لوگ بکثرت عیسائی نہیں ہوئے اور پاک گروہ کرسچنوں کا ہنوز قلیل المقدار ہے) تو بھی ہم کو مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ پادری صاحبان کا کام بے فائدہ نہیں اور ان کی محنت ہرگز ضائع نہیں بلکہ خمیر کے موافق دلوں میں اثر کرتی ہے اور باطن میں بہت سے لوگوں کے دل طیار ہوتے جاتے ہیں مثلاً ایک مہینہ سے کم گزرا ہوگا کہ ایک معزز رئیس میرے پاس آیا اور مجھ سے ایک گھنٹہ تک دینی گفتگو کی۔معلوم ہوتا تھا کہ اس کا دل کچھ طیاری چاہتا ہے اُس نے کہا کہ میں نے دینی کتابیں بہت دیکھیں لیکن میرے گناہوں کا بوجھ ٹلا نہیں اور میں خوب جانتا ہوں کہ میں نیک کام نہیں کرسکتا۔مجھے بہت بے چینی ہے۔میں نے جواب میں اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو زبان میں اُس کو اُس لہو کی بابت سمجھایا جو سارے گناہوں سے پاک و صاف کرتا ہے اور اُس راستبازی کی بابت سمجھایا کہ جو اعمال سے حاصل نہیں ہوسکتی بلکہ مفت ملتی ہے اُس نے کہا کہ میں نے سنسکرت میں انجیل دیکھی ہے اور ایک دو دفعہ یسوع مسیح سے دعا مانگی ہے اور اب میں خوب انجیل کو دیکھوں گا اور زور زور سے عیسیٰ مسیح سے دعا مانگوں گا۔(یعنی مجھ کو آپ کے وعظ سے بڑی تاثیر ہوئی اور عیسائی مذہب کی کامل رغبت پیدا ہوگئی) اب دیکھنا چاہیے کہ نواب لفٹیننٹ گورنر بہادر نے کس محنت سے ہندو رئیس کو اپنے مذہب کی طرف مائل کیا۔اور اگرچہ ایسے ایسے رئیس اپنے مطلب نکالنے کے لئے حکّام کے روبرو ایسی ایسی منافقانہ باتیں کیا کرتے ہیں تاحکّام اُن پر خوش ہوجائیں اور اُن کو اپنا دینی بھائی بھی خیال کر لیں لیکن اس تقریر سے مطلب تو صرف اس قدر ہے کہ صاحب موصوف کی اس گفتگو سے گورنمنٹ انگریزی کی آزادی کو سمجھ لینا چاہیے۔کیونکہ جب خود نواب لفٹیننٹ گورنر بہادر اپنے خوش عقیدہ کا ہندوستان میں پھیلانا بدلی رغبت چاہتے ہیں بلکہ اس کے لئے کبھی کبھی موقعہ پاکر تحریک بھی کرتے ہیں تو پھر وہ دوسروں پر اپنے اپنے دین کی ہمدردی کرنے میں کیوں ناراض ہوں گے۔اور حقیقت میں یک رنگی سے ہمدردی بجا لانا ایک نیک صفت ہے جس پر نفاق کی سیرت کو قربان کرنا چاہیے۔اسی یک رنگی کے جوش سے بمبئی کے سابق گورنر سر رچرڈ ٹیمپل صاحب نے مسلمانوں کی نسبت ایک مضمون لکھا ہے چنانچہ وہ ولایت کے ایک اخبار ایوننگ سٹینڈرڈ نامی میں چھپ کر اردو