عشق رسول ﷺ کا صحیح اظہار — Page 13
ایسے واقعات ملتے ہیں کہ دنیا میں اس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی۔میں چند مثالیں پیش کرتا ہوں۔گو اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جودوسخا کے واقعات میں بیان کیا جاتا ہے لیکن یہی واقعات جو ہیں ان میں بیبا کی کی حد کا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوصلہ کا بھی اظہار ہوتا ہے۔حضرت جبیر بن مطعم کی یہ روایت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ایک بار وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ کے ساتھ اور لوگ بھی تھے۔آپ حسنین سے آرہے تھے کہ بدوی لوگ آپ سے لپٹ گئے۔وہ آپ سے مانگتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آپ کو ببول کے ایک درخت کی طرف ہٹنے کے لئے مجبور کر دیا جس کے کانٹوں میں آپ کی چادر اٹک گئی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے اور آپ نے فرمایا میری چادر مجھے دے دو۔اگر میرے پاس ان جنگلی درختوں کی تعداد کے برابر اونٹ ہوتے تو میں انہیں تم میں بانٹ دیتا اور پھر تم مجھے بخیل نہ پاتے اور نہ جھوٹا اور نہ بزدل۔(صحیح البخاری کتاب فرض الخمس باب ماكان النبي عطى المؤلفة قلوبهم و غيرهم۔۔۔۔حدیث نمبر 3148) پھر ایک روایت حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے۔بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں تھا اور آپ نے ایک موٹے کنارے والی چادر زیب تن کی ہوئی تھی۔ایک بڈو نے اس چادر کو اتنے زور سے کھینچا کہ اس کے کناروں کے نشان آپ کی گردن پر پڑ گئے۔پھر اُس نے کہا: اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے اس مال میں سے جو اس نے آپ کو عنایت فرمایا ہے، میرے ان دو اونٹوں پر لاد دیں کیونکہ آپ مجھے نہ تو اپنے مال میں سے اور نہ ہی اپنے والد کے مال میں سے دیں گے۔پہلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔پھر فرمایا۔الْمَالُ مَالُ اللهِ وَانَا عَبْدُہ کہ مال تو اللہ ہی کا ہے اور میں اُس کا بندہ ہوں۔پھر آپ نے فرمایا۔مجھے جو تکلیف پہنچائی ہے اس کا بدلہ تم سے لیا جائے گا۔اُس بدو نے کہا، نہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم سے بدلہ کیوں نہیں لیا جائے گا؟ اُس بدو نے کہا اس لئے کہ آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے۔اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس کے ایک اونٹ پر جو اور دوسرے پر کھجور میں لاد دی جائیں۔13