عشق رسول ﷺ کا صحیح اظہار — Page 12
پھر یہ تجویز بھی ایک جگہ سے آئی تھی ، لوگ بھی مختلف تجویزیں دیتے رہتے ہیں کہ دنیا بھر کے مسلمان وکلاء جو ہیں یہ اکٹھے ہو کر پیٹیشن (Petition) کریں۔کاش کہ مسلمان وکلاء جو بین الاقوامی مقام رکھتے ہیں اس بارے میں سوچیں، اس کے امکانات پر یا ممکنات پر غور کریں کہ ہو بھی سکتا ہے کہ نہیں یا کوئی اور راستہ نکالیں۔کب تک ایسی بیہودگی کو ہوتا دیکھتے رہیں گے اور اپنے ملکوں میں احتجاج اور توڑ پھوڑ کر کے بیٹھ جائیں گے۔اس کا اس مغربی دنیا پر تو کوئی اثر نہیں ہوگا یا اُن بنانے والوں پر تو کوئی اثر نہیں ہوگا۔اگر ان ملکوں میں معصوموں پر حملہ کریں گے یا تھریٹ (Threat) دیں گے یا مارنے کی کوشش کریں گے یا ایمبیسیز پر حملہ کریں گے تو یہ تو اسلام کی کے خلاف ہے۔اسلام اس کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔اس صورت میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر خود اعتراض لگوانے کے مواقع پیدا کر دیں گے۔پس شدت پسندی اس کا جواب نہیں ہے۔اس کا جواب وہی ہے جو میں بتا آیا ہوں کہ اپنے اعمال کی اصلاح اور اُس نبی پر درود و سلام جو انسانیت کا نجات دہندہ ہے۔اور دنیاوی کوششوں کے لئے مسلمان ممالک کا ایک ہونا۔مغربی ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں کو اپنے ووٹ کی طاقت منوانا۔بہر حال افراد جماعت جہاں جہاں بھی ہیں، اس نہج پر کام کریں اور اپنے غیر احمدی دوستوں کو بھی اس طریق پر چلانے کی کوشش کریں کہ اپنی طاقت، ووٹ کی طاقت جو ان ملکوں میں ہے وہ منواؤ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے پہلوؤں کو بھی دنیا کے سامنے خوبصورت رنگ میں پیش کریں۔آج یہ لوگ آزادی اظہار کا شور مچاتے ہیں۔شور مچاتے ہیں کہ اسلام میں تو آزادی رائے اور بولنے کا اختیار ہی نہیں ہے اور مثالیں آجکل کی مسلمان دنیا کی دیتے ہیں کہ مسلمان ممالک میں وہاں کے لوگوں کو شہریوں کو آزادی نہیں ملتی۔اگر نہیں ملتی تو اُن ملکوں کی بدقسمتی ہے کہ اسلامی تعلیم پر عمل نہیں کر رہے۔اسلامی تعلیم کا تو اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ہمیں تو تاریخ میں لوگوں کے بے دھڑک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہونے بلکہ ادب و احترام کو پامال کرنے اور اس کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صبر اور حو صلے اور برداشت کے ایسے 12