عشق رسول ﷺ کا صحیح اظہار

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 10 of 24

عشق رسول ﷺ کا صحیح اظہار — Page 10

کرلیں کہ اپنے ووٹ اُن سیاستدانوں کو دینے ہیں جو مذہبی رواداری کا اظہار کریں۔اور ان کا ظہار نہ صرف زبانی ہو بلکہ اُس کا عملی اظہار بھی ہو رہا ہو اور وہ ایسے بیہودہ گوؤں کی، یا بیہودہ لغویات بکنے والوں یا فلمیں بنانے والوں کی مذمت کریں گے تو ان دنیاوی حکومتوں میں ہی ایک طبقہ کھل کر اس بیہودگی کے خلاف اظہار خیال کرنے والامل جائے گا۔پس مسلمان اگر اپنی اہمیت کو سمجھیں تو دنیا میں ایک انقلاب پیدا ہوسکتا ہے۔وہ ملکوں کے اندر مذہبی جذبات کے احترام کے قانون بنوا سکتے ہیں۔لیکن بدقسمتی ہے کہ اس طرف توجہ نہیں ہے۔جماعت احمد یہ جو توجہ دلاتی ہے اُس کی مخالفت میں کمر بستہ ہیں اور دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ مسلمان لیڈروں کو، سیاستدانوں کو اور علماء کو عقل دے کہ اپنی طاقت کو مضبوط کریں۔اپنی اہمیت کو پہنچا نہیں۔اپنی تعلیم کی طرف توجہ دیں۔یہ لوگ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بیہودہ اعتراض کرتے ہیں، الزامات لگاتے ہیں اور جنہوں نے یہ فلم بنائی ہے یا اس میں کام کیا ہے ان کے اخلاقی معیار کا اندازہ تو میڈیا میں ان کے بارے میں جو معلومات ہیں اُن سے ہی ہو سکتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ سب سے زیادہ کردار ایک قبطی عیسائی کا ہے جو امریکہ میں رہتا ہے، نکولا بیلے (Nakoula Basseley Nakoula) یا اس طرح کا اس کا کوئی نام ہے یا سام بیلے (Sam Bacile) کہلاتا ہے۔بہر حال اس کے بارے میں لکھا ہے کہ اس کی criminal background ہے۔مجرم ہے۔یہ فراڈ کی وجہ سے 2010ء میں جیل میں بھی رہ چکا ہے۔دوسرا آدمی جس نے فلم ڈائر یکٹ کی ہے، یہ پورنوگرافیز موویز کا ڈائریکٹر ہے۔اس میں جو اور ایکٹر شامل ہیں وہ سب پورنو گرافکس موویز کے ایکٹر ہیں۔تو یہ ان کے اخلاق کے معیار ہیں۔اور پورنوگرافیر کی جو حدود ہیں وہ تو آدمی سوچ بھی نہیں سکتا۔یہ لوگ کس گند میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اعتراض اُس ہستی پر کرنے چلے ہیں جس کے اعلیٰ اخلاق اور پاکیزگی کی خدا تعالیٰ نے گواہی دی۔پس یہ غلاظت کر کے انہوں نے یقینا خدا تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دی ہے اور دیتے چلے جارہے ہیں۔اسی طرح اس فلم کے سپانسر کرنے والے بھی خدا تعالیٰ کے عذاب سے نہیں بچ 10