ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 92 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 92

ہر ماہ میں تین دن نماز پڑھ لیتا ہوں مہینے کی نمازوں کا ثواب مل جاتا ہے۔یہ حال علماء کا ہے۔یہ باتیں میں نے تم کو اس واسطے سنائی ہیں کہ اب جو میں قرآن شریف تمہیں سنائوں گا اور اللہ تعالیٰ نے عمر، صحت اور توفیق دی تو ابتدا سے انتہا ء تک سنائوں گا۔تم غور کرتے جائو کہ آیا یہ امور جو لوگ بناتے ہیں اور کرتے ہیں فی الحقیقت قرآن شریف میں موجود ہیں یا یونہی کسی لفظ کی ٹانگ پکڑ کر یہ لوگ گھسیٹ کر کہیں کہیں لے جاتے ہیں۔میرا جی چاہتا ہے کہ تم ان باتوں کو دل میں رکھو اور غور سے سنو۔کیا ایسی باتوں کی تائید آیات قرآنی سے نکلتی ہے یا کیا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا چال چلن دیکھتے ہیں مگر خود اُس پر عمل کوئی نہیں کرتے۔تم اس واسطے سنو کہ عمل کرو نہ اس واسطے کہ صرف سن لو یا اپنی کاپیوں میں نوٹ کر لو اور بس۔اس سے کچھ فائدہ نہیں۔(البینـۃ:۶)۔اللہ تعالیٰ کی عبادت خالص اللہ کے واسطے کرو جس میں کوئی ملاوٹ ریاء کی نہ ہو اور نہ کوئی اپنی نفسانی غرض ہو۔قرآن شریف جامع کتاب ہے وہ تمام اختلافات کو مٹانے کے واسطے آئی ہے۔بعض دفعہ ایک لفظ کے دو تین چارمعنے ہوتے ہیں اور لغت میں اختلاف ہوتا ہے۔یہ اس واسطے ہے کہ تمہیں دعا، محنت، تدبر، فہم کے واسطے موقع مل جائے۔قرآن شریف میں تمام اصول مفصل اورمدلل بیان کئے ہیں۔حدیث میں دلائل نہیں ہیں۔عمل کے واسطے حدیث بہت مفید اور بابرکت ہے۔بخاری کومیں نے بہت پڑھا ہے۔اب بھی پڑھتا ہوں۔صحابہ، تابعین کا عملدرآمد بڑی ہدایت اپنے اندر رکھتا ہے۔قرآن شریف اصل ہے۔پھر حدیث۔پھر تعامل، صحابہ،تابعین، تبع تابعین، اولیاء اور صلحائے امت کا۔اس کا علم اور اس پر عمل رضائے الٰہی کے حصول کا موجب ہے۔یہ ہماری نجات کا ذریعہ ہے اور اسی طرح سے کام چلتا ہے۔آج دھواں دھار تقریریں کرنے والے اور مضامین لکھنے والے خود عمل نہیں کرتے۔شراب کی مذمت میں تقریریں کرتے ہیں حالانکہ خود اُس وقت شراب پئے ہوئے ہوتے ہیں۔