ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 91
واسطے یہ بھی ایسے ہی بن جاتے ہیں۔ا ن کی تقلید کرتے ہیں مگر وہ بھی پوری نہیں۔ہم نے دیکھا ہے کہ انگریز کیسے ہی مذہب سے بے تعلق ہوں سونے کے وقت کم از کم تھوڑی سی انجیل ضرور پڑھ لیا کرتے ہیں مگر ان لوگوں سے اتنا بھی نہیں ہو سکتا کہ تھوڑا سا قرآن روزانہ پڑھ لیا کریں۔ایسے ہی ایک جنٹلمین میرے آشنا تھے اور مجھ سے محبت رکھتے تھے۔ایک ایسا موقع پیش آیاکہ وہ اور میں عصر کی نماز کے وقت بہت دنوں تک متواتر جمع ہوتے تھے۔جب میں نماز عصر کے واسطے اُٹھتا تو وہ بھی میرے ساتھ نمازمیں شامل ہوتے مگر کسی دن میں نے ان کو وضو کرتے نہ دیکھا۔میں خیال کرتا تھا کہ بڑے نیک آدمی ہیں ہمیشہ باوضو رہتے ہیں۔ایک دن میں نے انہیں کہا کہ آپ تو وضو کے بڑے پابند ہیں ہمیشہ اس وقت آپ با وضو ہوتے ہیں۔فرمانے لگے۔ہاں ہم لوگ (جنٹلمین)رات کو شراب پیتے ہیں، زنا کرتے ہیں مگر صبح سویرے اُٹھ کر خوب نہا کر روز نئے کپڑے پہن لیتے ہیں۔دن بھر پھر کوئی ایسا کام نہیں کرتے۔میں نے کہا۔اچھا تو آ پ صبح کے بعد پھر وضو نہیں کرتے۔فرمانے لگے۔اور تو ہمیں معلوم نہیں اگر وضو کو توڑنے والی کوئی اور شئے ہے تو اس سے آپ مجھے مطلع فرماویں۔غرض اس قسم کے لوگ بھی اس زمانہ میں بکثرت طیار ہو رہے ہیں۔ایک اور قوم ہے ہر قسم کا شرک، دغا، فریب، دھوکہ بے ایمانی کر لیتے ہیں۔نماز نہیں پڑھتے، جھوٹ بول لیتے ہیں، زنا کرتے ہیں، شراب پیتے ہیں پھر بزرگ کے بزرگ بنے بیٹھے ہیں۔یہ گدی نشین لوگ ہیں۔نہ انہیں نماز سے تعلق نہ قرآن شریف سے کوئی غرض۔اِلَّا مَا شَآئَ اللّٰہُ دنیا نیکوں سے خالی نہیں۔پھر بعض علماء ہیں وہ قرآن شریف کے الفاظ سے اپنے مطلب کے مطابق عجیب عجیب باتیں بناتے ہیں۔میں نے ایک عالم دیکھا۔یہاں آیا۔ہمارا کتب خانہ دیکھتا تھا۔اچھا مولوی صاحب یہ جو قرآن شریف میں آیا ہے کہ (الانعام :۱۶۱) جو ایک نیکی کرے اُسے دس گنا بدلا ملے گا۔کیا یہ پختہ بات ہے۔میں نے کہا۔ہاں پختہ بات ہے۔قرآن شریف میں آیا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔تب مولوی صاحب کہنے لگے کہ میں تو اسی واسطے