ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 76 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 76

ہے اور اللہ پاک اس کو ہر تنگی سے ضرور نکالتا ہے۔اب دیکھو قادیان کی طرف یہاں کا لباس، زبان، طرز معاشرت کوئی اچھی نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنا ایک بندہ پیدا کیا۔ہم سب پروانے کی طرح اس پر نثار ہیں۔فرقان کے معنی بھی یہی ہیں ہر دکھ سے سکھ پہنچانا ہر تنگی سے نجات دینا۔کوئی متقی ہو ضرور اسے تنگی سے فراخی ہوتی ہے اور دشمن ہلاک ہوجاتا ہے۔یہ نہ ماننا خدا تعالیٰ پر بدظنی ہے۔خدا کی نافرمانی فرمایا۔کوئی شخص جب تک کوئی گناہ قصور نہ کرے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بادشاہی نہیں لیتا جب تک اس کی نافرمانی نہ کی جاوے۔ایک میرے پیر تھے حضرت شاہ عبدالغنی۔میں نے سنا ان کا مرید دہلی کا ایک شہزادہ تھا، کامران نام۔ایک دن اس نے سنایا حضرت ہمارے قلعہ میں اس قدر سیہ کاری ہوتی ہے۔رات کو جتنی رذیل چوہڑیاں ہیں وہ شہزادوں کے بستروں پر اور جس قدر شہزادیاں ہیں وہ رذیل لوگوں کے بستروں پر ہوتی ہیں۔تو شاہ صاحب نے فرمایا۔تم نکل آؤ وہاں سے۔کہتے ہیں کہ نماز عصر کا وقت تھا کہ شہزادہ کامران مع اہل و عیال آگیا۔حضرت کو الہام ہوا کہ ہم نے قلعہ کامران کی خاطر سے بچایا ہوا تھا۔پھر رات کو وہاں غدر ہوگیا اور بڑی بڑی شریف شہزادیاں خاک میں مل گئیں اور عزت برباد ہوئیں۔مصائب آنے کے اسباب فرمایا۔تکبر فضولی نکما پن تباہ کردیتاہے۔یاد رکھو جو تکلیفیں مصائب آتے ہیں ضرور کسی گناہ کے سبب آتے ہیں مگر اب مسلمان اس مسئلہ کو مانتے نہیں۔احکام قرآن چھوٹنے کا نتیجہ فرمایا۔دنیا میں اللہ تعالیٰ کی کتاب پھیلاؤ حدیثوں کو پھیلاؤ۔یہ بھی لوگوں نے دنیا میں اب راہ نکالی ہے کہ لمبی نمازیں پڑھتے ہیں مگر لڑکیوں کو حصہ نہیںدیتے یا تو عورت کو گھر کی مالک ہی بنا دیتے ہیں یا پھر ذرا غصہ آیا بس چوٹی پکڑ کر باہر نکال دیا۔قرآن کے احکام چھوڑدیئے۔خانگی لڑائی جھگڑوں کا سبب فرمایا۔یہ بھی ایک بڑا دکھ ہے گھر گھر لڑائی ہے۔ساس بہؤوں میں لڑائی ،دیورانی جٹھانیوں میں فساد، میاں بیوی میں جھگڑا، بہن بھائیوں میں، رشتہ داروں میں