ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 508
حضرت امیر المؤمنین نور الدین فرماتے ہیں کہ میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت کبھی وہم نہیں کرسکتا کہ انہوں نے نعوذ باللہ ان آیات کو نہ سمجھا ہو۔اتنا بڑا فقیہہ اور امام اگر قرآن کریم کو نہیں سمجھتا تو پھر دوسرے مسائل پر کہاں بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اس حسن ظن کی وجہ سے جو اس نے مجھے عطا کیا ہے میں نے اس نکتہ معرفت کو سمجھا اور وہ یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ ججمنٹ کرتے تھے۔وہ فقیہہ تھے ان کے دربار میں مقدمات آتے تھے جن کا فیصلہ انہیںکرنا پڑتا تھا۔اب یہ ظاہر امر ہے کہ وہ مقدمات میں اس قسم کا لحاظ نہیں کرسکتے تھے کہ فلاں بڑا مومن ہے اور تہجد گزار ہے اور فلاں نہیں۔اس لئے انہوں نے ان قضایا کے فیصلہ کے لئے کہا ہوگا کہ تصفیہ قضایا میں ایمان کی کمی بیشی کوئی نہیں۔قضا اور قانون کے محکمہ کو اس سے تعلق نہیں لیکن پیچھے آنے والوں نے غلطی سے اس نکتہ کو نہیں سمجھا اور یہ قرار دیا کہ گویا امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ ایک ایسے امر سے انکار کرتے تھے جس کی صراحت قرآن کریم میں موجود ہے اور یہ ان لوگوں کی غلطی ہے۔اصل بات یہی ہے جو میں خدا کے فضل سے سمجھا ہوں۔الغرض ایمان بڑھتا ہے۔………………… حیاتِ نور کے متعلق ایک حنفی پر اتمام حجت جموں میں ایک طالب علم مجھ سے پڑھتا تھا اس نے مسئلہ اَ لْاِیْمَانُ یَزِیْدُ وَ یَنْقُصُ کے ضمن میں کہا کہ مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی نے اس مسئلہ کا فیصلہ کردیا ہے کہ (نعوذ باللہ ) امام بخاری بے وقوف تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قرآن مجید نازل ہوتا تھا اور نزول آیات سے ایمان بڑھتا تھا لیکن اب جبکہ قرآن مجید کا نزول نہیں ہوتا پھر اَ لْاِیْمَانُ یَزِیْدُ وَ یَنْقُصُ کیسے درست ہوسکتا ہے؟