ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 503 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 503

اس مسئلہ پر کسی قدر تفصیل سے ابھی بحث کرتے ہیں۔پہلے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ایمان ہے کیا چیز ؟ ایمان کی تعریف اس زمانہ کے امام حجۃ الاسلام نے یوں فرمائی ہے۔(دیکھو ایام الصلح روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ۲۶۱) ایمان کیا ہے؟ ایمان کی تعریف کے متعلق بھی مباحثہ ہوا ہے۔بعض کا خیال ہے کہ ایمان صرف دل کی بات ہے۔منہ سے کچھ کہنا یا اعضاء سے اس کے موافق کچھ کرنا ضروری نہیں مگر جب اس پر ان سے مؤاخذہ کیا گیا تو اتنا اور بڑھا دیا کہ تَصْدِیْقُ مَا جَآئَ بِہِ الرَّسُوْلُ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ لے کر آئے ہیں اس کی تصدیق بھی ضروری ہے۔بعض نے کہا کہ ایمان معرفت القلب کا نام ہے۔بعض نے کہا کہ ہم دل کی بات کیا جانیں زبان سے اقرار ہو اور اس پر ھَلْ شَقَقْتَ قَلْبَہٗ کی دلیل بھی پیش کی۔بعض نے کہا کہ دل میں معرفت ہو اور زبان سے اقرار ہو۔کسی نے کہا کہ ایمان تو اعمال کا نام ہے۔ترک مناہی اور تعمیل اوامر کو ایمان کہتے ہیں۔امیر المومنین نور الدین کا مذہب مگر میرا مذہب (امیر المومنین نور الدین) جو قرآن کریم سے پایاجاتا ہے اور بخاری صاحب نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تعلیم سے ظاہر کیا ہے یہ ہے ایمان نام ہے دل کے اندر ارادے سے یقین کرنا اور زبان سے اقرار کرنا اور اعمال کے ذریعے کرکے دکھا دینا۔اس لئے کہ ایمان کی اصطلاحیں یہ ہیں۔اوّل۔احکام دینا اس پر مترتب ہوں۔یہ صرف اقرار زبان سے ہوسکتا ہے۔کسی نے لَااِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ پڑھ دیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں۔ہم نے اس کو مسلمان سمجھ لیا۔دوم۔جن پر عاقبت کا مدار ہو۔یہ تصدیق و یقین قلب پر موقوف ہے اور اس کے ساتھ لسانی اقرار۔سوم۔اس معرفت اور اقرار کا عملی اثر پیدا ہو۔اس سے اعمال صالحہ کی ضرورت لازم آتی