ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 494
اس لئے یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ احادیث کے متعلق چند ضروری امور اور اصول بتا دئیے جائیں مگر اس پر لکھنے سے پہلے بعض ان امور کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے جو اس سلسلہ کی ایک زنجیر ہیںا ور گویا حدیث اور جمع حدیث کے ان قدرتی اسباب میں سے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مہیا کر دئیے تھے۔فن روایت اور اہل عرب یہ ایک مسلّم بات ہے کہ فن روایت دنیا کی تمام قوموں میں ترقی و تنزل کا ایک زبردست ذریعہ تسلیم کیا گیا ہے اور کم و بیش ہر قوم میں خصائص قومی کو یاد رکھنا لازمی سمجھا جاتا ہے اور آج تو یہ نہایت ہی ضروری چیز ہے۔علامہ ابن خلدون نے کیا ہی سچ کہا ہے ’’فن تاریخ ان فنون میں سے ہے جس کو قدیم الایام سے تمام قومیں ہاتھوں ہاتھ لیتی آئی ہیں اور جس کے لئے دور دراز سے بڑی بڑی مسافتیں طے کی جاتی ہیں اور جس کے حاصل کرنے کے لئے بازاری اور کم عقل تک کی گردنیں اٹھتی ہیں۔جس کی طرف امراء و سلاطین حد سے زیادہ راغب ہیں۔‘‘ چونکہ مشیت ایزدی نے اس پاک وجود کی بعثت کے لئے عرب کو مقدر کر رکھا تھا جو دنیا میں آکر حقیقی تہذیب و تمدن کا بانی ہونے والا تھا اور اسے نو ع انسان اور نسل آدم کا رہنما اور اس کی زندگی کو اس کے لئے ایک اسوہ حسنہ قرار دیا تھا۔اس لئے اس کے کلمات طیبات کی حفاظت کے لئے پہلے ہی عرب کی طبیعتوں میں خصائص قومی کی حفاظت کا مادہ رکھ دیا تھا۔ان کو قدرت نے اعجازی حافظہ اور حفاظت روایت کا بے حد جذبہ دے رکھا تھا۔وہ نہ صرف تاریخی واقعات اور انساب انسانی کے سلسلوں کو یاد رکھنا اپنا فرض سمجھتے تھے بلکہ انسانوں سے گزر کر ایک ایک معمولی آدمی اپنے اونٹ اور گھوڑوں کے انساب یاد رکھتا تھا اور بلا تکلف و بے تکان سو سو نسل تک گن جاتا تھا۔ایک طرف انہیں اس قدر زبردست قوت حافظہ عنایت کی تھی دوسری طرف ان کی خصائص قومی میں یہ بات رکھ دی تھی کہ وہ اخلاقی جرأت سے کام لے کر فوراً دوسرے کی غلطی سے اسے