ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 479
بنوامیہ، بنو فاطمہ،بنو عباس میں باوجود اتنا اختلاف ہونے کے سب کا قرآن اور تعامل ایک ہے۔اگر اتنا اختلاف نہ ہوتا تو تعلیم کی حفاظت کا اتنا یقینی علم نہ ہوتا۔آپ میں مخالف لوگ جب کسی ایک ہی کو سب صحیح سمجھیں تو وہ بات ضرور صحیح ہوتی ہے کیونکہ باوجود اپنے اختلافات کے انہوں نے اس پر اتفاق کیا۔شیعہ لوگ جب منہ دھوتے ہیں تو ایک ہاتھ سے دھوتے ہیں۔بخاری صاحب نے اس واسطے یہ باب باندھا کہ دونوں ہاتھوں سے دھونا چاہیے۔بہت سی کتابیں امام بخاری صاحب سے پہلے ہوئی ہیں اور بہت سی کتابیں بعد میں اور بعض امام بخاری صاحب کے زمانہ میں ہوئی ہیں۔مسلم ، ابودائود، ترمذی امام بخاری کے زمانہ میں ہوئی ہیں۔ان کتابوں سے بخاری صاحب کا پتہ لگتا ہے کہ بخاری صاحب کے نزدیک کل بیبیاں اہل بیت تھیں۔حضرت عائشہ اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہما کی روایت سے شروع کیا ہے۔پھر ابن عباس کو بھی اہل بیت سے شمار کرتے ہیں۔پھر ابوسفیان کو بھی لیا ہے اس سے بھی روایت کی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ نیک لوگ کسی کی پرواہ نہیں کرتے۔مرزا جمیل بیگ مالیر کوٹلہ کا ایک شیعہ تھا۔ایک دفعہ میں وہاں گیا تو مجھے کہنے لگا کہ حضور آپ وضوء کس طرح کرتے ہیں؟ میں نے کہا کہ آپ کا اعتراض کیا ہے ؟ کہا کہ ہم آپ کی طرح وضوء نہیں کرتے۔آپ لوگ قرآن کے خلاف کرتے ہیں۔میں نے کہا کہ تم وضوء کرو ہم دیکھتے ہیں۔جب وہ وضو کرنے لگا تو پہلے پائوں کو دھویا۔میں نے کہا کہ یہ تو میں نے نہیں پڑھا۔قرآن شریف میں کہیں نہیں لکھا کہ پہلے پائوں دھو لو۔تم قرآن کریم کے خلاف کرتے ہو۔آخر بے جواب ہو کر اس نے کہا کہ اچھا یہ تو مجھے کر لینے دو۔میں نے کہا کہ یہ لکھ دو کہ ایک آیت کے تم خلاف کرتے ہو۔پھر ایک اور بات قرآن کے خلاف کی تب … میں نے کہا کہ دو آیتوں کے خلاف تم کرتے ہو۔جب اس نے ہاتھ دھوئے تو میں نے رومال رکھا ہوا تھا۔رومال سے اس کے ہاتھوں کو پونچھ دیا۔میں نے کہا کہ اب مسیح کرو تو کہنے لگا کہ کیا آپ مجھ سے مذہب کو چھڑاتے ہیں۔خشک