ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 478 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 478

نماز توڑ کر وضو کرتے ہیں۔اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔جب تک کہ آواز نہ آوے یا بدبو نہ محسوس ہو وضو کو ٹوٹا ہوا نہیں خیال کرنا چاہیے۔باب ۶ پورا وضوء کرنا۔انگلیوں سے لے کر کہنی تک کوئی جگہ خشک نہ رہے۔ماتھے کے بالوں سے لے کر ٹھنڈی (ٹھوڑی) تک کوئی جگہ خالی نہ رہے۔پائوں کی انگلیوں سے لے کر ٹخنوں تک کوئی جگہ خشک نہ رہے۔قرآن شریف میں سَابِغَات کا لفظ اس جنگی لباس کے واسطے ہے جو سارے بدن کو ڈھانپ دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کے متعلق بھی یہ لفظ آیا ہے۔لَمْ یُسْبِغِ الْوُضُوْئِ۔پورا وضوء نہ کیا۔معلوم ہوتا ہے کہ راستہ کا غبار وغیرہ بدن سے اچھی طرح نہ اترا تھا۔لَمْ یُصَلِّ۔مغرب کے بعد عشاء سے قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوئی نماز نہ پڑھی اور ایک اور صحابی کہتا ہے کہ پڑھی تھی تو یہاں ان دونوں روایتوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا لیکن دراصل جھگڑا کوئی نہیں۔ایک نے دیکھا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حج میں عرفات سے واپس آئے تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔دوسرے کو یہ موقع نہیں ملا کہ وہ آپ کو پڑھتے ہوئے دیکھتا۔دونوں سچے ہیں مگر جس نے دیکھا اس کی بات کو مضبوط سمجھ کر ہم مان لیتے ہیں۔۵؎ باب ۷۔غَسْلُ الْوَجْہِ بِالْیَدَیْنِ مِنْ غَرْفَۃٍ وَّاحِدَۃٍ اسلام کیا ہے؟ لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدْ رَّسُوْلُ اللّٰہ۔پھر اسلام کیا ہے ؟ وہ جو بلند آواز سے مکانوں کی چھتوں پر چڑھ کر پکارا جاتا ہے۔اذان ہے۔اذان ایک صحابی کو وحی ہوئی تھی۔امام بخاری صاحب کے وقت سنی، شیعہ، خارجی، مالکی وغیرہ سب تھے۔سب کی روایت انہوںنے لی ہے۔اگر صرف کسی ایک فرقے کی لیتے تو اسی فرقے کی کتاب سمجھی جاتی۔لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ شیعہ اور خارجی کی کیوں روایت لی ہے حالانکہ یہ خوبی ہے نہ کہ محل اعتراض۔