ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 472 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 472

گھٹنوں اور پائوں کی انگلیوں کے بل بیٹھتے تھے۔باب ۳۰ کوئی بات سمجھ میں نہ آوے تو اسے بار بار پوچھ لینا جائز ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کے گھر جائو تو السلام علیکم کہو۔جواب نہ آوے تو پھر کہو۔پھر بھی جواب نہ آوے تو پھر کہو۔باب ۳۲ اَلْقُرْطُ۔بالی۔عرب میں ایک دو بالیاں پہننے کا رواج تھا زیادہ کا نہ تھا۔وہی ان عورتوں نے چندے میں دے دیں۔باب ۳۶ حِسَابٌ یَسِیْرٌ۔صرف اعمال سامنے کئے جائیں گے۔۴؎ باب ۳۹۔نکتہ ہمارے دوستوں کو چاہیے کہ ایک نوٹ بک اپنے پاس ضرور رکھا کریں۔بخاری صاحب فرماتے ہیں کہ علم پڑھو اور کوئی حکمت کی بات کان میں پڑے تو اسے لکھ لیا کرو۔ابن عباس سے روایت ہے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت بیمار ہوئے تو آپ نے فرمایا۔اِیْتُوْنِیْ بِکِتَابٍ اَکْتُبُ لَکُمْ کِتَابًا لَّا تَضِلُّوْا بَعْدَہٗ۔کتاب میرے پاس لائو میں تمہارے لئے کچھ لکھ دوں کہ تم میرے بعد گمراہ نہ ہو جائو۔عمرؓ نے اور اہل بیت نے عرض کیا (اہل بیت کا لفظ بخاری میں دوسری جگہ آیا) کہا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیماری کی تکلیف میں ہیں اور ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب کافی ہے۔اس پر اصحاب میںاختلاف ہوا اور باتیں بہت ہونے لگیں۔تب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس سے اٹھ جائو۔نبی کے سامنے تنازع مناسب نہیں۔تب لوگ چلے گئے۔یہ حدیث سنی شیعہ کے درمیان معرکۃ الآراء ہے اور اس پر بہت جھگڑا ہوا ہے۔میں نے اس حدیث پر بہت غور کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے جو اس کی حقیقت سمجھائی ہے مفصلہ ذیل باتیں اس میں قابل توجہ ہیں۔۱۔جو بات رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لکھنا چاہتے تھے آیا وہ تئیس سال کی تعلیم کے