ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 46
دلاتا ہوں۔غرض مولوی عبدالکریم مرحوم نے ایک مرتبہ حضرت صاحب سے کہا کہ نورالدین کی تحریر میں تیزی نہیں ہوتی۔حضرت صاحب نے فرمایا۔ہاں ان کا طریق ایسا ہی ہے یہ نرم طبیعت رکھتے ہیں۔بات اصل میں یہ ہے کہ میں ہر قسم کی تحریر اور تقریر پر خدا کے فضل سے قادر ہوں مگر میں سچ کہتا ہوں کہ جب بولتا ہوں یا لکھتا ہوں تو میرے زیر نظر یہ امر ہوتا ہے کہ کوئی ا س سے نفع اٹھاوے۔پس نفع رسان بنو اور جس طرح پر یہ تحریریں مفید اور نفع رساں ہوں اس کو مدنظر رکھو ہمارے طریق کو استعمال کرو اور ہمیشہ یہ مدنظر رکھو کہ کوئی سعادت مند فائدہ اٹھاوے مہدی کے متعلق جو مضمون آپ نے کہیں سے لیا ہے اس کا طرز بیان مجھے پسند نہیں آیا ایسے طرز بیان سے بعض اوقات صداقت مشتبہ ہوجاتی ہے اور لوگ اس کو معمولی پھبتی سمجھ لیتے ہیں۔متانت کی قدر اس واسطے صداقت کے اظہار میں ہمیشہ متانت اور ثقاہت سے کام لینا چاہیے۔دہلی کی زبان میں شوخ کلام کرنے والے بھی ہوتے ہیں مگر مجھے پسند نہیں۔میرے کتب خانہ میں دواوین اردو میں سے ذوق، غالب اور مومن کے دیوان موجود ہیں مگر سودا اور ابوظفر کا کلام نہیں رکھا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے کلام میں وہ بات نہیں جو ذوق اور مومن کے کلام میں ہے۔دہلی کے بعض لوگوں سے مجھے بڑی محبت ہے۔شاہ ولی اللہ صاحب، شاہ عبدالغنی صاحب، شاہ رفیع الدین صاحب اور شاہ عبدالقادر صاحب وَغَیْرُہُمْ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی سے میں محبت رکھتا ہوں۔آپ کو معلوم ہے بارہا میں نے اس کا ذکر کیا ہے ان کی زبان میں بڑی پاکیزگی اور ثقاہت ہے میں چاہتا ہوں کہ ہمارے دوست اپنی تحریروں میں ان لوگوں کا اتباع کریں۔آپ ہمارے اسلوب تحریر کا بھی اتباع کر کے دیکھیں۔تقریر امیر اور نصائح یہاں تک حضرت نے گفتگو فرمائی تھی کہ حضرت صاحبزادہ صاحب اور مولوی حافظ روشن علی صاحب اور قاضی مولوی سید امیر حسین صاحب اور مولوی سید سرور شاہ صاحب بھی حصو ل اجازت کے لئے آ حاضر ہوئے مختصراً حضرت نے پھر ان ریمارکس کا ذکر کیا جو پہلے فرمائے تھے پھر فرمایا کہ