ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 457
پادری کو اس طرح توجہ دلائی کہ جیسا کہ انہوںنے خود مسلمانوں کو اپنی طرف کرکے اپنی تقریر سنائی ہے ایسا ہی میں میں امید کرتا ہوں کہ پادری صاحب مسلمانوں کو بھی موقع دیں گے کہ ان کی تقریریں سنیں۔(اس سے میرا منشاء یہ تھا کہ آئندہ کوئی عظیم الشان جلسہ کیا جاوے جس میں مسلمانوں کو بھی دو چار گھنٹہ تقریر کرنے کا موقع ہو۔چنانچہ بعد میں بشپ صاحب کو ایسے جلسہ کے واسطے حضرت مسیح موعود کی طرف سے مدعو کیا گیا تھا مگر آپ نے نہ مانا۔اس کا مفصل ذکر اپنے موقع پر آئے ہوگا۔) پھر میں نے کہا کہ لارڈ پادری صاحب نے دو گھنٹے تک تقریر فرمائی ہے اور ہمارے واسطے صرف پندرہ منٹ ہیں اتنی لمبی تقریر کا جواب ایسے تھوڑے وقت میں مفصل ہو نہیں سکتا۔پس میں ایک مختصر بات کرتا ہوں جس سے بہت جلد فیصلہ ہوجائے۔لارڈ پادری صاحب نے بہت سے انبیاء کا ذکر کیا ہے اور دلائل میں قرآن اور احادیث کو لیا ہے۔حدیث کے متعلق ابھی ایک مسلمان نے اعتراض کیا تھا کہ یہ صحیح نہیں۔پس یہ بھی ایک بحث طلب امر ہوگیا۔اس واسطے دلائل میں سے سردست قرآن شریف ہی کو میں رکھتا ہوں جو سب مسائل کا اصل ہے۔پھر انبیاء میں سے لارڈ پادری صاحب نے آدم، موسیٰ ، دائود علیہم السلام بہت کا ذکر کیا ہے اور بالآخر حضرت نبی کریم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر کیا ہے۔چونکہ پہلے تمام انبیاء آپ کے اور ہمارے مشترک ہیں سب کو آپ بھی نبی مانتے ہیں اور ہم بھی نبی مانتے ہیں۔معصوم تھے یا غیر معصوم تھے آپ کے بزرگ بھی تھے اور ہمارے بھی۔اور وقت تنگ ہے اس واسطے ان کے ذکر کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔باقی رہے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جن کو آپ نبی نہیں مانتے اور ہم ان کو تمام نبیوں کا سردار مانتے ہیں اور عیسائی لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منکر ہیں۔اصل جھگڑا آپ کے اور ہمارے درمیان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ہے۔پس چونکہ وقت بھی تنگ ہے اور اصل مطلب مباحثہ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معصومیت ہی ہے اس واسطے میں باقی تمام باتوں کو چھوڑ کر اصل مرکز پر گفتگو کرتا ہوں اور اسی قرآن شریف کو لیتا