ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 454 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 454

ایڈیٹر۔آج کل کے یسوعی صاحبان قرآن شریف کی اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے حضرت محمد مصطفیٰ سرور انبیاء سید المعصومین کو نعوذ باللہ گنہگار اور اس طرح فضیلت یسوع ثابت کرنے کی کوشش کیا کرتے ہیں۔اس مضمون پر ہمارا ایک مباحثہ بشپ لیفرائے سے ہوا تھا جس کا بیان اس جگہ فائدہ سے خالی نہ ہوگا اور وہ اس طرح ہے۔معصوم نبی اور بشپ صاحب ماہ مئی ۱۹۰۰ء میں جبکہ دفتر اکونٹنٹ جنرل میں ملازمت کے سبب لاہور میں قیام پذیر تھا اور مخدومی مکرمی حضرت شیخ رحمت اللہ صاحب کے ساتھ ایک مکان بیرون شہر میں رہا تھا تو ایک دن ہم نے اچانک سنا کہ پادری لیفرائے صاحب نے تمام مسلمانوںکو دعوت کرکے ایک لیکچر دینے کا اشتہار دیا ہے جو کہ انارکلی میں فورمن چیپل میں ہوگا۲؎ اور جس کا مضمون ہوگا ’’ معصوم نبی ‘‘۔لیفرائے صاحب اب تک بھی لاہور کے بشپ اور پنجاب کے تمام پادریوں کے افسر یعنی لارڈ پادری ہیں۔اس جلسہ کی خبر سن کر شام کے وقت میں مقام جلسہ پر گیا۔وہاں لوگ نہایت کثرت کے ساتھ پہلے ہی سے جمع تھے کیونکہ لیکچر دینے والے صاحب بہت مشہور اور عیسائیوں میں ایک مانے ہوئے جید عالم اور مناظرہ و مباحثہ میں بہت مشق رکھنے والے لارڈ پادری صاحب تھے اور بالمقابل تمام مولوی صاحبان کو بلایا گیا تھا۔ہماری جماعت احمدیہ کے چند آدمی بھی موجود تھے مگر ہم میں سے کوئی اس امر کے واسطے تیار ہوکر نہ آیا تھا کہ پادری صاحب کے بالمقابل کھڑا ہو۔اور یہ بھی خیال تھا کہ لاہور کئی ایک اسلامی انجمنوں کا مرکز ہے جنہوں نے مخالفین اسلام کا مقابلہ کرنا اپنا فرض قرار دیا ہوا ہے اور بہت سے مولوی جمع تھے وہ صاحبان خود جواب دے دیں گے۔ہماری جماعت بھی قلیل تھی لیکن اثنائے گفتگو میں مخدومی جناب مولوی عبیداللہ صاحب نے عصمت انبیاء پر چند کلمات فرمائے اور عصمت کے لفظ کو قرآن شریف میں  (المائدۃ :۶۸) کی طرف اشارہ کیا۔خیر یہ باتیں سرسری طور پر ہوگئیں اور لیکچر کا وقت قریب ہونے کے سبب ہم لوگ چیپل ہال کے