ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 440 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 440

خوف و خشیت سب سے زیادہ ہوتا ہے۔نصیحت ہمارے دوستوں کو چاہیے کہ خدیجہ صدیقہ نے جو صفات حسنہ بیان فرمائی ہیں وہ اپنے اندر پیدا کرلیں۔۱۔صلہ رحمی۔اپنے رشتہ داروں سے نیک سلوک۔۲۔دکھیاروں کا دکھ اٹھانا، ناتواں کا بوجھ اٹھانا۔۳۔جس چیز کی لوگوں کو ضرورت ہو اور کہیں نہ ملتی ہو اسے مہیا کرنا۔۴۔مہمان نوازی کرنا۔۵۔مصائب کے وقت چندوں سے مدد دینا۔۶۔سچی بات بولنا۔۷۔امانت کو واپس ادا کرنا۔(پچھلی دو باتیں ایک اور حدیث میں اور جگہ بخاری صاحب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مذکور ہیں۔) وحی الٰہی کے یاد ہوجانے کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو لفظ استعمال کئے ہیں۔پہلی حالت میں سخت ہوتی ہے اور بیہوشی سی طاری ہوتی ہے۔لفظ وَعَیْتُ۔ماضی کا صیغہ استعمال کیا ہے جس کے معنے ہیں وحی یاد ہو جاتی ہے مگر فرشتوں کے متمثل ہونے کی صورت میں مضارع کا صیغہ استعمال کیا ہے اَعِیْ۔انبیاء علیہم السلام کے ساتھ بشریت تو لگی ہی ہوئی ہے۔بڑے بڑے مجاہدات اور ریاضات کے ساتھ قویٰ بھی کمزور ہوجاتے ہیں۔پھر اس پر وحی الٰہی کی تجلی کا زور، انبیاء اس کی طاقت کو نہ سہار کر بیہوش سے ہو جاتے ہیں اور جب ہوش آتی ہے تو وحی الٰہی ساری کی ساری خود بخود یاد آجاتی ہے۔اس واسطے وَعَیْتُ صیغہ ماضی میں بیان کیا لیکن فرشتہ جب سامنے متمثل ہوکر کلام کرتا ہے تو انبیاء بھی ساتھ ساتھ یاد کرتے جاتے ہیں اس لئے اَعِیْ مضارع کا صیغہ استعمال فرمایا۔