ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 439
بھی۔جیسے ہمارے اجسام اور ہماری تمام ظاہری قوتوں پر آفتاب اور ماہتاب اور دیگر سیاروں کا اثر ہے ایسا ہی ہمارے دل اور دماغ اور ہماری تمام روحانی قوتوں پر یہ سب ملائک ہماری مختلف استعدادوں کے موافق اپنا اپنا اثر ڈال رہے ہیں۔جو چیز کسی عمدہ جوہر بننے کی اپنے اندر قابلیت رکھتی ہے وہ اگر چہ خاک کا ایک ٹکڑا ہے یا پانی کا وہ قطرہ جو صدف میں داخل ہوتا ہے یا پانی کا وہ قطرہ جو رحم میں پڑتا ہے وہ ان ملائک اللہ کی روحانی تربیت سے لعل اور الماس اور یاقوت اور نیلم وغیرہ یا نہایت درجہ کا آبدار اور وزنی موتی یا اعلیٰ درجہ کے دل اور دماغ کا انسان بن جاتا ہے۔‘‘ (توضیح مرام۔روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۶۶ تا ۶۸) باب۳۔رؤیائے صالحہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے پہلے رؤیائے صالحہ سے وحی شروع ہوئی۔خدیجہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے انسان کو یار و غمگسار بیبیاں ملتی ہیں۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ایسی ہی تھیں۔وہ بہت فہیم اور آنحضرتؐ کی خدمت گزار عورت تھیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیوں سے واقف تھیں۔جب آنحضرتؐ وحی کی عظمت سے مرعوب ہوئے اور خوف زدہ ہو کر خدیجہ سے ذکر کیا تو اس پاک بی بی نے کیا لطیف جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا آ پ خوف نہ کھائیں۔آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، دکھیاروں کا دکھ اٹھاتے ہیں جو چیز کہیں نہیں ملتی آپ کی صحبت سے حاصل ہوتی ہے، آپ مہمان نوازی کرتے ہیں، لوگوں کے مصائب کے وقت چندوں سے مدد دیتے ہیں۔ایسا آدمی کبھی ضائع نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ ایسے کو ذلیل نہیں کرتا۔خشیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ڈرگئے۔انبیاء کے ساتھ بشریت رہتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیکھا کہ اب تو سارا جہان مخالف ہوجائے گا اور جان کے لالے پڑ جائیں گے۔یہ بہت مشکل کام ہے جس پر بوجھ پڑتا ہے وہی جانتا ہے اور انبیاء کو اللہ تعالیٰ کا