ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 422
قدر قرآن کریم کی صداقت جلوہ گر ہوگی۔غرض یہ تین آیات علم کی فضیلت پر میں خلاصۃً پیش کرتا ہوں اور ان تینوں میں صحیح علوم کے حاصل کرنے کی ترغیب بھی موجود ہے۔پہلی آیت میں تو خود دُعا ہی تعلیم کی ہے۔دوسری میں رفع درجات کی خوشخبری ہے اور تیسری میں اللہ تعالیٰ قَائِمًا بِالْقِسْطِ اُولُو الْعِلْمِ کی شہادت کواپنی ہستی اور وحدانیت پر پیش کرکے بتاتا ہے ہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْم۔ایسے قَائِمًا بِالْقِسْط ِ اہل علم جب اللہ تعالیٰ کی ہستی پر گواہ ہوں گے تو اللہ تعالیٰ جو عزیز اور حکیم ہے ان کو بھی معزز بنادے گا اور حکمت کے چشمے ان کے لبوں سے جاری ہوجائیں گے۔سچے اور صحیح علوم کا نتیجہ سچے اور صحیح علوم کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ (فاطر :۲۹) خدا تعالیٰ کی خشیت ان عالموں کے قلوب میں پیدا ہوجاتی ہے اور اس خشیت سے پھر حکمت کے خزانے ان کے سینوں سے نکلتے ہیں۔فضیلت علم پر عقلی دلیل یہ تو اللہ تعالیٰ کی اپنی دی ہوئی دلائل فضیلت علم پر ہیں۔ان کے سوا ایک عقلی دلیل میری سمجھ میں آئی اور پھر سچ پوچھو تو یہ عقلی دلیل بھی اسی کے فضل کا عطیہ ہے اور ان علوم سے پیدا ہوئی جو اس نے اپنے محض فضل سے عطا کئے۔بہرحال وہ یہ ہے کہ میں نے دیکھا کہ دنیا میں جس قدر چھوٹے چھوٹے کام ہیں جب ان کے ساتھ علمی رنگ آتا ہے اور علم کے تعلق سے ان کو کیا جاتا ہے تو وہ عظیم الشان ہوجاتے ہیں۔مثلاً چکّی پیسنا، کپڑا بُننا، دھونا، سینا، کپڑا کاٹنا، رنگ بنانا، حجامت کرنا، لوہاری کام، چمڑہ رنگنا، گاڑی چلانا، جوتا بنانا وغیرہ۔ان میں سے ایک ایک کام پر نظر کرو جب یہ اپنی عام حالت میں کئے جاتے ہیں تو عام لوگ اس کو کوئی بڑا کام یا عزت کا کام نہیں سمجھتے۔مثلاً چکی پیسنا یہ معمولی کام ہے لیکن جب اس کو انجن کے ذریعہ کیا جاوے اور علمی طاقت اس کے ساتھ ہو تو وہی چکی پیسنے کا فعل جو معمولی اور ادنیٰ سمجھا جاتا تھا عظیم الشان سمجھا جاتا ہے اور پھر کہا جاتا ہے کہ فلاں صاحب بڑے معزز اور مقتدر ہیں۔ان کے ہاں فلور مل چلتی ہے۔گویا وہی آٹے پیسنے کی کَل موجب فخر ہوگئی۔اسی طرح پر کپڑے بُننے کا کام ایک ادنیٰ درجہ کا کام سمجھا گیاتھا لیکن جب علم نے اس کی سرپرستی کی اور