ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 416 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 416

مہلت حاصل کرتے ہیں اور(المومنون:۵۶)کے نیچے زندہ رکھے جاتے ہیں مگر اکثر ہلاک یا ذلیل ہوتے یا تھک جاتے ہیں۔کم از کم کوئی جماعت نہیں بنا سکتے جو اصل مدعا ہے اور وہ جو صادق ہے اس کو تاج قبولیت عطا کیا جاتا ہے۔وہ عملی نمونہ دکھاتا ہے اور تائیدات ارضیہ و سماویہ اس کے ساتھ ہوتی ہیں۔اس کی مجلس اور صحبت میں جو لوگ زیادہ رہتے ہیں یا بار بار اس کے پاس آتے ہیں انہیں علوم دینیہ اور معارف قرآنیہ اور معرفت الٰہیہ حاصل ہوتی ہے اور حقیقی محبوب کی لو ان کے دلوں کو لگ جاتی ہے۔توبہ کی طرف توجہ کا ایک بڑا حصہ ان لوگوںکو عطا کیا جاتا ہے۔اگر کوئی ان کی خدمت کرتا ہے تو نعم البدل سے محروم نہیں رہتا۔جس امر کو وہ ضروری کرکے پیش کرتے ہیں زمانہ ان کی اور ان کے مسائل کی ضرورت کو پہلے محسوس کرتا ہے۔تب ہی تو کہنے والے نے کہا ہے ؎ آسمان بار د نشان الوقت می گوید زمین ایں دو شاہد از پئے تصدیق من استادہ اند بعض دعائوں سے بھی ان کو روکا جاتا ہے۔چنانچہ حضرت نوح کو فرمایا گیا کہ (ھود:۴۷)۔حضرت ابو الخلفاء ابراہیم خلیل اللہ کو کس محبت سے فرمایا گیا ہے کہ(ھود:۷۵)۔ان لوگوں کی آمد پر ایک غلغلہ ہوتا ہے اور جن مسائل کے لئے وہ کوشش کرتے ہیں ان مسائل کی طرف لوگوں کی توجہ ان کی قبولیت کے لئے پہلے ہی سے شروع ہوجاتی ہے۔نادان کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ نادان شخص نے بیان کیا ہے مگر وہ نہیں سمجھتے کہ اسی کی تصدیق کے لئے یہ کام پہلے سے ہوا ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے کس قدر قبل شرک سے نفرت لوگوں کے دلوں میں آچکی تھی اور یہود کا بھی یہ حال ہوگیا تھا کہ (البقرۃ:۹۰)۔قوم کے اجزاء متفرق ہوتے ہیں اور یہ شخص ان متفرق اجزاء میں وحدانیت کی روح پھونکتا ہے۔نادان یہ خیال کرتا ہے کہ یہ شخص تفرقہ پھیلاتا ہے حالانکہ تفرقہ تو پہلے سے موجود ہوتا ہے اور بڑا سخت ہوتا ہے۔اس کے سبب سے تو ایک اجتماع کی صورت برپا ہوجاتی ہے۔ایسے لوگوں پر جب فیضان الٰہی کی بارش ہوتی