ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 410
بخاری کے چند مقامات مشکلہ کو الگ نوٹ کرلینا۔اوہام روات، اضطراب ، مشکلات اور زمانہ حال کے اعتراضات۔پھر ان مقامات کے شروح اور ان کے سوالات علماء سے دریافت کرتے رہنا۔مخالفت۔۔۔۔۔۔کے لئے نہیں۔ظہور حق کے لئے اس پر عمدہ شروح حنابلہ و مالکیہ کی دیکھ لینا اور دریافت کرنا۔گو فتح الباری مفید اور عینی نافع ہے۔قرآن کریم کی تفاسیر میں صرف متشابہات کو محکمات کے مطابق کرنے کی سعی کرنا اِلَّا لَا لِلْفِتْنَۃِ وَلَا لِشُغْلٍ۔فقط۔محلّٰی ابن حزم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیل الاوطار، ام ،امام ، المام، عمدہ کتب فقہ ہیں۔مجمع الزوائد، ابن حبّان وابن خزیمہ اصلاح المستدرک، مسند عبد الرزاق، مسند سعید بن منصور، مصنف ابن ابی شیبہ گوموکی علیھا کتابیں ہیں۔مگر گو نہ مفید ہیں۔ادب میں کامل مُبَرَّدْ،ادب الکاتب ابن قتیبہ صناعتین۔کتب ورسائل حافظ معتزلی، اسرار البلاغۃ اور دلائل الاعجاز لعبد القاہر، مفتاح العلوم، للسکا کی میرے خیال میں عمدہ ہیں، الکتاب لسیبویہ بابرکت ہے۔صحاح جوہری مد نظر رہے اور اس کے اشعار حل کرتے رہو (گو آہستہ آہستہ اور بہت تدریج سے ہوں) صرف و نحو میں بہت تدقیق مناسب نہیں۔نہ لمبی تحقیق نہ ان کے قواعد یاد کرنا ضروری ہیں۔مختصراً اس پر نظرہو۔فصیح بولنا، فصاحت سے لکھنا ، فصحاء کی مجالس، فصیح فقرات لکھ لینا، عمدہ اخباروں کے عمدہ آرٹیکل پڑھنا۔اگر ممکن ہو تو عمدہ عمدہ جدید طب کی ہر شعبہ کی کتابیں ضرور نظر سے گزار لو اور کچھ طریق طبِّ جدید وہاں سیکھ لو۔جلساء صالحون کے لئے دعا دعا۔دعا رؤیت شہر وقریٰ، کبھی موقع ملے تو مکہ معظمہ، مدینہ طیّبہ ضرور جائیں۔دعائیں، دعائیں، دعائیں۔صحـبتِ صلحاء، مجالس اتقیاء ،قربِ ابرار و اَخیار ضروری اور لَابُد ہے۔ہاں سیاست سے کوئی تعلق نہ ہو۔والسلام نور الدین ۸؍جولائی ۱۹۱۳ء (الفضل جلد ۲ نمبر۷۳ مورخہ ۳؍دسمبر ۱۹۱۴ء صفحہ ۵)