ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 408 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 408

احادیث میں ۱۔موطاء امام محمد اور امام یحيٰ۔یہ دونوں موطاء امام مالک ہیں۔اگر ان کی شرح تمہیدا ابن عبدالبر اور استذکار ابن عبدالبر مل جائے۔۲۔مسلم کی صحیح (یعنی امام مسلم کی کتاب جو صحیح مسلم کے نام سے مشہور ہے۔ایڈیٹر) ۳۔الجامع الصحیح البخاری بشرح فتح الباری لابن حجر الشافعی الحافظ و شرح ابن رجب الحنبلی و شرح الاسکندر انی المالکی و شرح بدر الفہی الحنفی بہت ہیں۔ہاں ابو دائود پر منذری و تہذیب السنن۔ترمذی پر قاضی ابوبکر ابن ماجہ پر ابن ملقن ابن رجب اور عراقی کی وہ یادداشتیں جو اس کے غلط مقامات پر ہوں۔۴۔فقہ میں مذاہب اربعہ کے وہ مختصرات جو صاف اور آساں ہوں مثلاً قدوری حنیفہ میں۔۵۔اصول میں اسی طرح صاف صاف مثلاً اصول شاشی حنفیہ میں رسائل اربعہ اتقان سے پڑھنا۔اصول حدیث میں نخبہ۔تجوید میں صالح قاری سے ایک دو آیات قرآنیہ ہر روز پڑھ لینا جزویہ۔شاطبہ۔ادب میں قرآن ، بخاری ، عمدہ اخباریں اور منتخب جرائد پھر وقت ملے تو السبع المعلقات، حماسہ، دیوان افوہ الدودی۔بعض مقامات ہمدانی و حریری و بعض ابواب اطباق الذہب و اطواق الذہب و مقامات زمخشری۔اگر دلچسپی ہو اور قوت برداشت کرے تو تمام مفتاح العلوم اتقان سے پڑھیں۔جب سبق پورا سمجھ میں نہ آوے آگے مت پڑھو۔مفتاح کے شروح میں صرف مقامات مشکلہ پڑھو۔زبان صرف بولنے اور سننے سے آتی ہے۔صرف و نحو کے پڑھنے سے ہرگزنہیں آتی۔کیا ہم نے پنجابی صرف و نحو پڑھ کر سیکھی۔کبھی صرف و نحو پر وقت ضائع نہ کرو۔الکتاب سیبویہ بڑی عظیم الشان کتاب ہے مگر اس کے شروح دیکھ لئے اور بس۔تاریخ میں مقدمہ ابن خلدون قابل پڑھنے کے ہے اور بدایہ و نہایہ، ابن کثیر، تاریخ کبیر بخاری قابل مطالعہ۔تصوف میں فتوح الغیب ہے یا قشیریہ ماہر ملے تو فصوص الحکم۔علم کلام میں صرف قرآن، صرف قرآن اور بس۔ہاں۔(الفضل جلد۲ نمبر ۷۲ مورخہ یکم دسمبر ۱۹۱۴ء صفحہ۶ )