ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 401 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 401

بِوَلِیٍّ(سنن ابن ماجۃ کتاب النکاح باب لا نکاح الا بولی)۔لَاحَدَّ اِلَّا فِی اثْنَتَیْنِ(المعجم الکبیر للطبرانی باب العین)۔میں غور فرماؤ۔کیا یہ نفی آپ کے نزدیک عموم رکھتی ہے۔پھر غور کرو اور قرآن کریم میں تو خاتم النبیین بفتح تاء ہے خاتم بکسر تاء نہیں۔بھلا میاں صاحب!  (النساء:۶۲)میں آپ عموم کے قائل ہیں یا تخصیص کے۔کسی شخص کو نبی اللہ کہنا خدا کے اختیار میں ہے انسان کے اختیار میں نہیں۔ابوبکر کو نبی نہیں کہا گیا اور مسیح موعود کو کہا گیا۔اس عرض پربس کرتا ہوں۔یار باقی صحبت باقی۔نور الدین ۵؍ جولائی ۱۹۰۷ء محمود کی مخالفت شیخ رحمت اللہ صاحب مالک انگلش دیئر ہاؤس راوی ہیں کہ خواجہ کمال الدین صاحب حضرت خلیفۃ المسیح مولانا نور الدین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب کی مخالفت میں بہت کچھ کہا۔حضور نے فرمایا کہ خواجہ صاحب آپ خواہ کتنے ہی بڑے آدمی بن جائیں پھر بھی آپ سوچیں کہ یزید نے اہل بیت کی مخالفت کر کے کیا پھل پایا۔میر محمد اسحٰق۔(الفضل جلد۱ نمبر۴۶ ج مورخہ ۲۹ ؍اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۲۰) حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓ اور مسئلہ کفر واسلام دنیا میں جو قومی زلزلے آیا کرتے ہیں وہ نہایت ہی مفید ہوتے ہیں۔بعض لوگ جو سست ہوجاتے ہیں وہ بھی اس موقع پر بیدار ہوجاتے ہیں اور ایسے ایسے لوگ میدان کارزار میں نکل آتے ہیں کہ جن کی خوبیوںکا ہمیں علم بھی نہیں ہوتا۔ہماری جماعت کی موجودہ کشمکش نے بھی اس لحاظ سے اچھا اثر ڈالا ہے۔اکثر دوست اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے مطالعہ میں مشغول ہوگئے ہیں۔ان میں ہمارے دوست چوہدری برکت علی خان صاحب بھی ہیں۔آج انہوں نے الحکم کے ۱۹۰۲ء کے فائل کی ورق گردانی کر کے ایک عجیب تحریر نکالی ہے جو مسئلہ کفر پر حضرت خلیفۃ المسیح خلیفہ اوّل کے الفاظ میں اچھی طرح روشنی