ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 392
لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ پر میرا ایمان ہے اور اسی پر مرتا ہوں اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب احباب کو میں اچھا سمجھتا ہوں۔اس کے بعدمیں حضرت بخاری صاحب کی کتاب کو خدا کی پسندیدہ سمجھتا ہوں۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو مسیح موعود اور خدا کا برگزیدہ انسان سمجھتا ہوں۔مجھے ان سے اتنی محبت تھی کہ جتنی میں نے ان کی اولاد سے کی تم سے نہیں کی۔قوم کو خدا تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں اور مجھے پورا اطمینان ہے کہ وہ ضائع نہیں کرے گا۔تم کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی کتاب کو پڑھنا پڑھانا اور عمل کرنا۔میں نے بہت کچھ دیکھا قرآن جیسی چیز نہ دیکھی۔بے شک یہ خدا تعالیٰ کی اپنی کتاب ہے۔باقی خدا کے سپرد۔(ماخوذ از مدینۃ المسیح الفضل جلد۱ نمبر ۴۰ مورخہ ۱۸ ؍مارچ۱۹۱۴ء صفحہ۱ ) حضرت خلیفۃ المسیح کی ایک خاص دعا مسجد اقصیٰ میں قرآن شریف کا درس دیتے ہوئے فرمایاکہ وضو کر کے دو رکعت پڑھ کر خدا کی تعریف و تحمید کرکے پہلی رکعت میں وَالضُّحٰی اور دوسری میں اَلَمْ نَشْرَحْ پڑھو اور حمد اور استغفار بھی بتادیا تھا اس کے بعد یہ دعا مانگو۔الٰہی اسلام پر بڑا تبر چل رہا ہے مسلمان اوّل سست دوم دین سے بے خبر سوم قرآن سے بے خبر رسول کریم ؐ کی سوانح عمری سے بے خبر۔تو اُن میں ایک ایساآدمی پیدا کر جس میں قوت جذب، قوت جاذبہ، ہمت بلند ،کمال استقلال پھر بڑی دعائیں کرے والا، تیری تمام یا اکثر رضاؤں کو اس نے پورا کیا ہو۔قرآن اور صحیح حدیث سے باخبر ہو۔پھر اس کو ایک جماعت بخش۔وہ جماعت نفاق سے پاک ہو ان میں تباغض نہ ہو۔اس جماعت کے لوگوں میں جذب، ہمت بلند اور وہ بھی قرآن و حدیث سے واقف ہوں۔ان کو ابتلاؤں میں ثبات عطاکر۔ابتلا ( البقرۃ : ۲۸۷)نہ ہوں۔پھر اس شخص اور اس کی نسل کو ویسی ترقی دے جیسا کہ میں نے دعا کی ہے۔تم بھی انصاراللہ اور حق کے مؤید بن جاؤ۔(ماخوذ از تصدیق المسیح الفضل جلد ۱ نمبر۴۱ مورخہ ۲۵؍مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۸)