ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 387
صاحب کے سپرد کردو وہ اسے محفوظ رکھیں گے۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب نے حاضرین کی موجودگی میں اصل کاغذ نواب صاحب کے سپرد کردیا۔پھر نواب صاحب نے عرض کیا کہ اس پر دستخط کرالئے جاویں اور اس مطلب کے لئے وصیت پھر حضرت کی خدمت میں پیش کی گئی۔آپ نے اس پر دستخط کردیئے جیسا کہ وصیت کے پڑھنے سے معلوم ہوگا۔بہرحال ۴؍ مارچ ۱۹۱۴ء کو بعد عصر حضرت خلیفۃ المسیح نے پاک وصیت کردی۔اور یہ بھی فرمایا کہ جیتے رہے تو اور بھی کچھ کہیں گے۔اس کے بعد کچھ یخنی اور دہی نوش فرمایا۔میں ناظرین کے علم و آگاہی کے لئے اصل وصیت کو یہاں درج کردیتا ہوں۔آپ نے اپنی اولاد کو جس طرح پر حوالہ بخد اکیا ہے اس سے آپ کی موحدانہ زندگی کا ایک نمونہ نظر آتا ہے اور اپنے قائمقام کو جو بیش قیمت ہدایات دی ہیں یہ ہیں۔متقی ہو، ہردلعزیزہو، عالم باعمل ہو اور حضرت صاحب کے دوستوں سے سلوک ، چشم پوش اور درگزر کرے۔یہ ایسی ہدایات ہیں کہ لاریب آپ کے جانشین کو ان پر عمل کرنا قوم کی بھلائی اور خوش قسمتی کی دلیل ہوگا۔میں اس وصیت کے متعلق کچھ اور تفصیل کرنا نہیںچاہتا۔سردست دعا کرتا ہوں اور احباب کو بھی دعا کے لئے کہتا ہوں کہ یہ پاک وجود عرصہ دراز تک ہماری رہنمائی کا موجب رہے اور اللہ تعالیٰ اس کے فیوض برکات سے ہمیں محروم نہ کرے اور ہمیں پاک تبدیلی کا موقع دے۔اپنے وقت پر اللہ تعالیٰ اس کے جانشین کو وہ توفیق دے جس کی خواہش نورالدین نے اپنی وصیت میں کی ہے۔آمین (ایڈیٹر) اصل وصیت بِسْمِ اللّٰہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمُدُہٗ وَنُصَلِّی عَلٰی رَسُوْلِہٖ الْکَرِیْمِ وَاٰلِہٖ مَعَ التَّسْلِیْمِ خاکسار بقائمی حواس لکھتا ہے۔لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ میرے بچے چھوٹے ہیں ہمارے گھر میں مال نہیں ان کا اللہ حافظ ہے ان کی پرورش ، پرورش یتامیٰ ومساکین سے نہ ہو کچھ قرض حسنہ جمع کیا جاوے لائق لڑکے ادا کریں یا کتب جائیداد وقف علی الاولاد ہو۔میرا جانشین متقی ہو، ہر دل عزیز ، عالم باعمل، حضرت صاحب کے پرانے اور نئے احباب سے سلوک چشم پوشی، درگزر کو کام