ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 381
دل میں بہت جوش ہے کہ بیان کروں مگر ڈاکٹر روکتے ہیں۔ایک دن مولوی صاحب نے یورپین مصنفوں کے اعتراضات متعلقہ ازواج مطہرۃ کو مدنظر رکھ کر ایک نوٹ لکھا اور کچھ شک نہیں کہ وہ نوٹ بڑی محنت اور قابلیت سے لکھا گیا تھا۔حضرت خلیفۃ المسیح نے اسے سن کر ایک نہایت ہی قیمتی اور لاجواب نکتہ معرفت فرمایا جس کا خلاصہ مطلب یہ تھا کہ معترضین کی بے حیائی ہے۔قرآن مجید میں تو کسی بیوی کا نام نہیں۔قرآن مجید کو زیر نظر رکھ کر اعتراض تو کرکے دکھائیں؟ قرآن مجید کے ترجمہ کی تکمیل کا بے حد جوش آپ کے دل میں ہے اور صرف یہ خواہش آپ کو زندہ رہنے کی خواہش پیدا کرتی ہے کہ ’’ قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ چھپا ہوا دیکھ لوں‘‘ اشاعت دین کا خیال ۲۰؍ فروری ۱۹۱۴ء کی صبح کو دس بجے کے قریب احباب آپ کے پاس موجود تھے اور ڈاکٹر صاحبان آپ کی غذا کا اہتمام کررہے تھے۔مولانا سید سرور شاہ صاحب اور حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی ایک مناظرہ پر جانے والے تھے۔آپ نے اس وفد کو باوجود اپنی بیماری کی حالت کے دعائوں کے ساتھ مناسب ہدایات دے کر روانہ کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حالت میں بھی جو چیز آپ کو پسند ہے وہ اشاعت دین ہے۔جو کچھ آپ نے فرمایا اس کا خلاصہ میرے الفاظ میں یہ ہے۔دعائیں بہت کرو۔اللہ تعالیٰ کے حضورگرجائو۔تکبر نہ کرنا۔اور پھر فرمایا کہ شیعہ کے ساتھ مناظرہ کے متعلق ہمارا اصول کسی کو معلوم ہے؟ آپ کے اس سوال پر عرض کیا گیا کہ ہاں۔مگر آپ نے اس کی تصریح کی اور فرمایا کہ منافق کا ایک نشان ہے(التوبۃ:۷۴)۔اس اصل پر دیکھ لو کہ حضرت صدیق، فاروق اور عثمان اور علی رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کامیابیاں کس شان کی ہیں۔پھر آیت استخلاف سے استدلال کا طریق بتایا۔پھر اس طریق پر استدلال کرتے ہوئے حضرت