ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 37
کی تقریر کا بڑا اثر لوگوں پر پڑا۔جب وہ تقریر ختم کرکے بیٹھا تو میں نے اس سے پوچھا کہ کیا مرزا صاحب انگریزی جانتے ہیں؟ اس نے کہا۔نہیں مگر ان کا فلاں مرید انگریزی خواں ہے۔ہم نے کہا کہ تم خود بھی بڑے انگریزی خوان ہو مگر تمہارا بھی کوئی معتقد ہے۔اس نے کہا۔ہم کو تو لوگ ُبرا ہی سمجھتے ہیں۔میں نے کہا کہ تم نے تو یہ زور دیا ہے کہ اسلام کو انگریزی خوانوں کی ہی ضرورت ہے۔اب آپ کہتے ہیں کہ ہمارا کوئی معتقد نہیں۔سو آپ لوگ کسی کام کے نہیں یہی لوگ کام کے ہیں۔پھر میں نے کہا کہ آپ لوگوں کے باوا آدم سر سید صاحب انگریزی پڑھے ہوئے ہیں۔کہا کہ وہ تو بولنا بھی نہیں جانتے۔میں نے کہا کہ تم سب لوگ اس کے پیچھے ہو اور اس جیسا کسی کو عظمت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔یہ دوسرا ثبوت ہے اس بات کا کہ آپ کو غلطی لگی ہے۔پھر اس نے کہہ دیا کہ خدائی لوگوں سے ہی فائدہ پہنچتا ہے۔ہم لوگوں میں نمونہ نہیں ہوتا۔جلد بازی اچھی نہیں ایک صاحب جنہوں نے رات کو حضرت خلیفۃ المسیح سے یوکلڈ (اقلیدس) شروع کی اور دن کو یہ خواہش ظاہر کی کہ مجھے صرف فلاں فلاں موقع سمجھا دیا جاوے تو کافی ہے۔اس پر فرمایا کہ دیکھو اشکال معہ حواشی پندرہ مقالہ اقلیدس دنیا بھر میں کسی کے پاس ہی پائو گے۔میں بڈھا آدمی ہوں۔اس پر بھی میرا خیال تھا کہ میں ہفتہ عشرہ تک پڑھا دوں گا۔رات کو صرف اصول موضوعہ ہی پڑھے اور اب جلدی ختم کرنے کی پڑ گئی۔ایک ہفتہ ہی صبر کرتے کہ میں تمہیں یوکلڈ کا عالم بنا دیتا۔میں نے تمہارے سبق کی خاطر وہ وقت دیا ہے کہ جب میں عشاء کے بعد کسی سے بات نہیں کرتا۔اسی طرح ایک مولوی عبدالقادر رام پور میں ہوتے تھے ڈپٹی تھے۔بڑے ہوشیار تھے۔وہ طالب علموں کو بھی پڑھایا کرتے تھے۔ایک شخص نے جا کر کہا کہ میرا بیٹا تحصیل کرچکا ہے اب آپ اس کو صرف شرح چغمینی جلدی پڑھا دیویں۔مولوی صاحب نے کہا کہ پڑھا دیں گے۔پھر اس نے کہا کہ میں اس کو لینے آیا ہوں آپ جلدی پڑھادیویں۔انہوں نے کہا کہ جلدی پڑھا دوں گا۔پھر اس نے کہا کہ میں یہاں بیٹھا ہوںآپ ابھی پڑھا دیویں۔انہوں نے لڑکے کو بلایا اور کاغذ پر لفظ شرح چغمینی لکھ کر لڑکے کو ہجا کرا دیا اور کہا کہ لو بابا۔رخصت۔