ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 36 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 36

دجال کی حدیثیں فرمایا۔یہاں ایک مولوی صاحب آئے تھے۔میں نے ان کو دکھلایا کہ دجال کی حدیث میں کس قدر اشکال لوگوں کو پیدا ہوئی ہیں۔ایک حدیث ہے کہ جوان ہوگا۔ایک حدیث میں ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں موجود تھا۔اس حساب سے وہ اب تک بڈھا کیوں نہ ہوا ہوگا۔ایک حدیث میں ہے کہ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔دوسری حدیث میں ہے کہ دجال بہت سی مخلوق بنائے گا۔باپ، بہن اور بھائی بھی بنالے گا۔ایک حدیث میں ہے کہ مغرب میں ہوگا۔ایک حدیث میں ہے کہ مشرق میں ہوگا۔ایک حدیث میں ہے کہ عراق اور شام کے درمیان ہوگا۔ایک حدیث میں ہے کہ روٹیوں اور پانیوں کے پہاڑ اس کے ساتھ ہوں گے اور جب حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکرکیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ کیا خدا کے دشمنوں کو ایسی عزت مل سکتی ہے۔میں نے ان کو یہ سنایا کہ اب یہاں کوئی کیا کرسکتا ہے اور ایک آدمی میں یہ سب باتیں کس طرح جمع ہوسکتی ہیں۔دراصل یہ سب باتیں قوت قدسیہ سے درست ہوسکتی ہیں۔اس میں اللہ تعالیٰ کی باریک در باریک حکمتیں ہوتی ہیں۔مثلاً ایک بچہ اگر مدرسہ میں نہیں جاتا تو اس کو کہا جاتا ہے کہ اگر تم جاؤ گے تو ہم تم کو ایک چیز دیں گے۔پھر جب وہ چیز اس کو دی جاتی ہے تو وہ یہی سمجھتا ہے کہ یہی کچھ ہے جو مجھ کو دیا جاچکا ہے مگر جب وہ بڑا ہوتا ہے تو سمجھ جاتا ہے کہ اس چیز کی کیا ہستی ہے۔ہم کو تو ایم اے تک تعلیم دلا دو تب ہم خوش ہوں گے۔ہر ایک بات کی حقیقت ایک وقت مقرر سے پہلے نہیں معلوم ہوسکتی۔کیسے آدمیوں کی ضرورت ہے فرمایا کہ ایک شخص بڑا انگریزی خوان اور لسان تھا۔وہ یہاں قادیان میں آیا۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ آپ ایک جلسہ کرکے آپس میں لیکچر بازی کرکے معلوم کریں کہ اسلام کے واسطے فی زمانہ کیا مفید بات ہے۔وہ شخص بڑا مدلل تھا اس نے اپنے لیکچر میں اس بات پر بڑا زور دیا کہ ہم کو اس وقت بڑے سائنسدانوں اور لیکچراروں کی ضرورت ہے۔اب سوائے انگریزی خوانوں کے دوسرے پر امید رکھنے سے بڑھ کر کوئی اور جہالت ہی نہیں۔غرض اس