ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 369 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 369

اکبر اور جہانگیر ایک سکھ نے مجھ سے پوچھا۔اکبر اچھا تھا یا جہانگیر۔میں نے کہا۔اکبر۔تو وہ بہت خوش ہوا۔جب اس کی وجہ پوچھی تو میں نے بتایا کہ اکبر اس لئے اچھا تھا کہ وہ بہ نسبت جہانگیر کے بہت متعصب تھا۔ہندوؤں میں سب سے بڑی چیز ذات اور گوت ہی ہے۔ورنہ یوںتو ان میں خدا کو ماننے والے نہ ماننے والے سب قسم کے لوگ موجود ہیں۔اکبر نے اپنی اور اپنے خاندان کی شادیوں سے اسے بھی مٹا دیا۔(ماخوذ از کلام امیر۔الفضل جلد۱ نمبر ۲۹ مورخہ ۳۱ ؍ دسمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۶) حضرت عمر کی شہادت کی ایک وجہ فرمایا۔میرے نزدیک حضرت عمرؓ کی یہ پہلی غلطی تھی کہ بڑے بڑے قیدی جو آئے تھے انہیں وہیں رکھ لیا۔بڑے بڑے مخالفوں کو دارالخلافہ میں رکھنا بہت خطرناک بات ہے۔آخر اس کا نتیجہ آپ کی شہادت کی صورت میں ظاہر ہوا۔بمطابق احادیث امام کے اختیارات فرمایا۔بخاری کی احادیث پر اگر سرسری نظر کی جائے تو امام کے اختیارات کا علم ہوتا ہے۔ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔لَوْ قَدْ جَائَ نَا مَالُ الْبَحْرَیْنِ قَدْ اَعْطَیْتُکَ ھٰکَذَا وَ ھٰکَذَا وَ ھٰکَذَا(صحیح بخاری کتاب الجزیۃ باب اقطع النبی ؐ من البحرین و ما وعد من مال البحرین) اسی طرح ایک خون بہا حضور نے بیت المال سے دلایا۔فَعَقَلَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِہٖ(المختصر النصیح فی تھذیب الکتاب الجامع الصحیح کتاب الدیات باب القسامۃ) اب کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ہمیں کیوں چٹی پڑی۔بس امام نے صدر انجمن کے دفتر سے دلایا۔غلطی کا خمیازہ فرمایا۔آدمی بات تو منہ سے نکال بیٹھتا ہے اور پھر کہتا ہے غلطی ہوگئی مگر اس غلطی کا خمیازہ اٹھانا پڑتا ہے۔انصار کے نوجوانوں نے مال کے متعلق ایک بات کہی۔حضور نے فرمایا۔اب تم قیامت تک سلطنت سے محروم رہو گے۔البتہ حوض پر مجھے ملنا وہاں تمہیں اجر ملے گا۔جہاز اور ان سے استفادہ فرمایا۔یہ جو سودیشی بدیشی لئے پھرتے ہیں  (الروم:۴۷) نے اس کا قلع قمع