ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 345 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 345

۶۔قرآن جیسی پاک کتاب، اسلام جیسا فطرت کے مطابق دین اس کے بارے میں اللہ فرماتا ہے کہ اس کی طرف ہدایت اسی کو ہوگی جس میں تین باتیں ہوں۔ایک تو ایمان بالغیب کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ دنیا کے تمام کارخانے، تمام علوم کی تحصیل پہلے فرض وایمان بالغیب پر مبنی ہے۔پس ایک طالب حق کو چاہیے کہ دین کے معاملہ میں بھی پہلے غیب پر ایمان لائے۔دوم کچھ خدا کے نام پر صدقہ و خیرات دینے کا عادی ہو کیونکہ بعض اوقات محتاج کے منہ سے ایسی دعا نکل جاتی ہے کہ جاتیرا دونوں جہانوں میں بھلا اور پھر اس دینے والے کا بیڑا پار ہوجاتا ہے۔سوم دعا کا عادی رہے۔حق کی طلب صادق بھی دعا کہلاتی ہے۔جو دعا نہیں کرتا جو کسی چیز کو پانے کی خواہش نہیں کرتا اور اس کے پانے کے اسباب مہیا نہیں کرتا وہ ہر گز اس چیز کو نہیں پاتا۔پس حضرت مرزا صاحب کے معاملہ میں بھی یہ طریق ہے کہ ایمان بالغیب لاؤ، صدقہ خیرات کرتے رہو اور دعا کرتے رہوکہ حق مجھ پر ظاہرہوجائے۔میں یقین رکھتا ہوں  ( العنکبوت : ۷۰) کے مطابق اسے اللہ تعالیٰ خود مرزا صاحب کی سچائی بتا دے گا۔یہ بڑی پکی بات ہے جو چاہے تجربہ کرلے۔(الفضل جلد۱ نمبر۱۲ مورخہ ۳؍ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۸) عاقبت کی فکر کرو فرمایا۔انسان کو چاہیے اپنے افعال، اقوال اور اعمال پر غور کرتا رہے کہ اللہ تعالیٰ کی حضور میں حاضر ہونے کے لئے اس نے کیا کچھ تیاری کی ہے۔آخر ایک دن اس دنیا کو چھوڑ کر خدا کے پاس جانا ہے، عاقبت کی فکر کرو۔بسم اللہ اور الحمد کیوں نہیں پڑھتے ایک شب نماز تراویح میں قرآن شریف سننے کے بعدحضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا۔دو باتیں میری سمجھ میں نہیں آتی ہیں۔ایک تو بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کو قرآن کریم پڑھتے ہوئے شروع سورۃ ہونے پر بالجہر نہ پڑھنا جبکہ بسم اللہ کو قرآن کریم کا جزو مانا ہے مگر پڑھتے ہوئے ایک سو چودہ آیتیں کھا جاتے ہیں۔دوسرا جب حافظ قرآن کریم کو شروع کرتے ہیں تو الحمد شریف کو چھوڑ جاتے ہیں اور وہ جو الحمد شریف ایک دفعہ پڑھتے ہیں وہ تو ہر رکعت کے