ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 344
پھر کہنے لگے کہ اچھا ہم تمہیں مثنوی پڑھاویں گے اور ایک شعر کی ایسی تشریح کی جو واقع میں ایسی تھی کہ میں نے کبھی نہ سنی تھی۔میں نے عرض کیا کہ حضرت اس بارگاہ ربی کی کتاب سمجھائیے۔یہ نزدیک کی کتابیں اگر میں پڑھ بھی لوں گا تو کیا بن جائے گا۔دُھردرگاہ (پنجابی) کی بولی سمجھایئے۔آخر آپ تو بڑی’’ پہنچ والے‘‘ (مقرب بارگاہ ایزی) ہیں آپ جیسے بزرگوںکی زبانی سنا ہے اور خود میرا بھی یہی یقین ہے کہ قرآن اس بارگاہ کی بولی میں ہے۔اس میں کھیٰعص اور یٰس اس قسم کے جو الفاظ ہیں ان کا مطلب سمجھا دیجئے۔آخر یہ اسی دُرگاہ کی بولی ہے جہاں آپ بودو باش رکھتے ہیں۔کہنے لگے کوئی اور بھی ذریعہ ہے۔میں نے عرض کیا حضور جھوٹ نہ بولیں یہ آپ کے مقام کا تقاضا ہے۔پس آپ بارگاہ ربی سے دریافت کریں کہ اس زمانے کا امام کون ہے کیونکہ بغیر امام کے تو کوئی صدی نہیں۔امریکہ میں ہو یا افریقہ میں یا مصر میں یا استنبول میں یا افغانستان میں میں انشاء اللہ وہیں جاپہنچوں گا۔آپ احسان فرمایئے اور پتا لے دیجئے اور اگر آپ خود ہی ہیں تو دعویٰ فرمایئے میں حاضر ہوں۔اس کے بعد میں چلاآیا اور قادیان آکر ’’فریاد درد اسلام‘‘ ایک اشتہار لکھا۔اس میں میں نے یہی سوال تمام گدی نشینوں، متصوفین وفقراء سے کیا اور چھپوا کر ان کو بھی بھیج دیا۔امرتسر آئے تو میں بھی اتفاقاً وہاں پہنچا۔کچھ پھل پھلاری لے کر حاضر ہوا۔کہنے لگے ُتو بڑا بے ادب ہے۔ُتونے ہمیں اشتہار چھاپ کر کیوں بھیجا۔یہ گستاخی ہے۔میں نے کہا حضور ! یہ غلطی زمانے نے کرائی۔میں نے انگریزی پڑھے ہوؤں سے یہی سنا کہ گورنروں، لفٹنٹوں اور بڑی بڑی سرکاروں میں آج کل چھاپ کر عرضی پیش کرتے ہیں۔معاف فرمایئے۔کہنے لگے ہاں معاف ہے۔میں نے کہا۔یہ پھل تو قبول ہوں اور مجھے دوات قلم کاغذ ذرا منگوادیں میںیہیں ہاتھ سے لکھ کر سوال پیش کردیتا ہوں۔ٹال گئے اور میں نے بھی زیادہ اصرار مناسب نہ سمجھا۔اس پاک کتاب کا فہم اور اس پر عمل کی توفیق مجھے مرزا کی طفیل حاصل ہوئی اور یہ اس کی راستبازی کا نشان ہے۔