ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 306
رامپور پہنچا تو حجۃ اللہ البالغہ، ازالۃ الخفا، خیرکثیر کے پڑھنے سے عین طلب علم کے زمانے میں شاہ ولی اللہ کا معتقد ہوا۔عرب میں گیا تو محی الدین ابن عربی اور شیخ ابن تیمیہ دو متضاد بزرگوں کی محبت دل میں جاگزین ہوئی۔حضرت شیخی و استاذی و محسنی حضرت شاہ عبدالغنی مجددی کا مرید بنا اور دل سے اب تک مرید ہوں جَزَاہُ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْجَزَاء۔مگرمحمد اسمٰعیل دہلوی، شاہ ولی اللہ دہلوی، ابن عربی، ابن تیمیہ اور ان سے پہلوں میں امام مالک، امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام احمد، امام ابویوسف، امام محمد، امام بخاری میرے محبوب و مقتدا تھے اور ہیں۔وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔السید عبدالقادر الجیلی رحمہ اللہ کی فتوح الغیب نے اپنا گرویدہ کرلیا۔وطن آیا تو مقلد لوگ شیخ ابن عربی، محمد اسمٰعیل کے باعث، صوفی ابن تیمیہ کے سبب، غیرمقلد ائمہ اربعہ اور امام یوسف و امام محمد کی محبت کے موجب کافر بنانے لگے۔پیرومرشد شاہ عبدالغنی اور استاذی شیخ رحمہ اللہ مہاجر تک پہنچ گئے مگر ناکام واپس آئے۔ایک نو مسلم شامی کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح کی تحریر اَنَا اُحِبُّ اَمْثَالَ ھٰؤُلَآئِ الرِّجَالِ حُبًّا جَمًّا لٰـکِنْ اُکْرِہُ اَنْ یَّدُوْرُوْا فِی الْبِلَادِ بِمِثْلِ ھٰذِہِ الْقَرَاطِیْسِ وَ یُذِلُّوا اَنْفُسَھُمْ اِلٰی مَتٰی وَ اِلٰی اَیْنَ ھٰذَاالْاَمْرُ۔فَلَا بُدَّ اَنْ یَّتَوجَّہَ الْفَتٰی اِلٰی طَرْفِ حِرَفٍ مَرْضِیَّۃٍ وَ اَنْ یَّقُوْمَ عِنْدَنَا لِتَحْصِیْلِ الدِّیْنِ وَالدُّنْیَا۔ترجمہ۔میں ایسے صاحبان سے بہت ہی محبت رکھتا ہوں لیکن یہ امر مجھے ناپسند ہے کہ ایسے سرٹیفیکٹ لے کر شہر بہ شہر پھرا کریں۔کب تک اس طرح پر پھرا کریں گے۔سو ضروری ہے کہ کسی عمدہ حرفہ کی طرف توجہ کریں اور ہمارے ہاں رہ کر دینی و دنیوی علوم حاصل کریں۔(ماخوذ از کلام امیر۔البدر جلد۱۳ نمبر۷مؤرخہ ۱۷؍ اپریل ۱۹۱۳ء صفحہ۷،۸) ریز گاری کی اجرت سوال۔کیا جائز ہے کہ روپیہ کے پیسے دینے کے وقت ایک پیسہ کم دیا جاوے؟ جواب۔اس کا نام سود نہیں۔ایک دوکاندار محنت سے پیسے مہیا کرتا ہے اور اس نے ایک پیسہ اجرت لے لی تو حرج نہیں۔