ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 274
فرمائی ہر گناہ کی آخری حالت کا نام کبیرہ ہے۔رکعات عشاء سوال نمبر۲۔دارالامان میں تعداد رکعات عشاء کا معمول کیا ہے؟ جواب۔ہمارا معمول یہ ہے۔فرض۴، سنت۴، وتر۳، بیٹھ کر۲، کل۱۳ رکعت۔وَارْکَعُوْا سوال نمبر۳۔نماز باجماعت کی تاکید میں (البقرۃ:۴۴) کا ارشاد ہوا ہے۔وَاسْجُدُوْا وغیرہ نہ ہونے کی مصلحت اور حکمت کیا ہے؟ جواب۔رکوع رکعت کا درمیانی حصہ ہے۔الفاظ رکوع اور رکعت ایک ہی مادہ سے نکلے ہیں۔رکعت میں کھڑا ہونا، بیٹھنا، سجدہ کرنا اور رکوع کرنا سب شامل ہے۔جو شخص نماز باجماعت میں رکوع میں آکر مل جائے اس کی رکعت ہوجاتی ہے سجدہ میں آکر ملنے سے وہ رکعت نہیں ہوتی۔اس واسطے جماعت نماز کی تاکید کے وقت رکوع کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔مامور کو نہ ماننے کا عذاب سوال نمبر ۴۔کیا عذاب الٰہی جو مامور کے ظہور کا نشان ہو اس کے واصل الی اللہ ہونے کے بعد بھی رہتا ہے؟ جواب۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے تھے تو آپ کے بعد قیصر وکسریٰ مفتوح اور ہلاک ہوئے۔کیا مامور کے منکر جو اس کی وفات کے بعد مریں گے دوزخ میں نہ جائیں گے؟ عذاب تو مامور کی وفات کے بعد بھی جاری رہتا ہے یہی ہمیشہ سے سنت اللہ ہے۔صَلٰوۃُ الْوُسْطٰی سوال نمبر۵۔صَلٰوۃُ الْوُسْطٰی سے کون سی نماز مراد ہے؟ جواب۔خدا تعالیٰ نے کسی نماز کا نام نہیں لیا تو ہم اس کی تعین کس طرح کرسکتے ہیں۔اس سے سب نمازوں کی تاکید نکلتی ہے۔(دن کی درمیانی نماز ظہر ہے۔رات کی تین نمازوں میں سے درمیانی نماز عشاء ہے۔دن کے آخر کے درمیان عصر ہے۔بیداری کے ثلث آخر کے درمیان مغرب ہے۔روشنی اور تاریکی کے وقت کے درمیان فجر ہے۔ایڈیٹر )