ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 267
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہٗ (۱) لَا تَتَمَنَّوْا لِقَائَ العَدُوِّ وَاسْئَلُوا اللّٰہَ الْعَافِیَۃَ(صحیح مسلم کتاب الجہاد و السیر باب کراہۃ تمنّی لقاء العدو والامر بالصبر عند اللقاء)یہ حدیث صحیح کے فقرے ہیں اس پر عمل کرو۔(۲) مباحثہ ہو تو اس کا ابتدا دشمن کی طرف سے ہو۔ (البقرۃ:۱۹۱) حکم سرکار ربّ العالمین ہے۔پرچہ ہو تو پہلے ان کا ہو۔(۳) لا حول کی کثرت رکھو۔اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِھِمْ وَ نَعُوْذُبِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ جماعت کا ورد ہو۔خشیت و خوف صرف اللہ تعالیٰ عزّ و جل کا رکھو اور بس۔مباحثہ کے واسطے اوّل اجازت حاکم، دوم اجازت پولیس و مجسٹریٹ ضروری ہے۔احمدرضا خاں صاحب وہابیہ کے خطرناک دشمن ہیں۔عبدالاوّل صاحب اور ان کا مقابلہ خوب ہے۔اضطراب اور خوف خلق مضر ہے۔مسلمان ڈپٹی مجسٹریٹ ضرور درمیان آوے۔تم سب دعاؤں میں لگے رہو۔ثُمَّ اُوْصِیْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ۔فَقَدْ فَازَ مَنِ اتَّقَا۔(النحل:۱۲۹)۔نورالدین ۲۴؍ جنوری ۱۹۱۳ء بی بی سے بہرحال نیک سلوک کرو ایک صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں لکھا کہ میں نے جو شادی کی ہے اس میں کئی ایک نقص ہیں۔حضرت صاحب نے جواب میں فرمایا۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ (۱) آپ نے خود بدُوں استخارہ خلاف حکم الٰہی نکاح کیا مخلوق سے ڈر گئے۔اس میں کس کا قصور ہے؟