ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 256 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 256

ہوجاوے اورمخلوق کا بھلا ہو جس کو کسی بزرگ نے بتایا ہو اور وہ اتم طور پر قرآن میں بیان نہ ہو۔خواہ وہ ارسطو کا قول ہو، خواہ جالینوس نے بیان کیا ہو، خواہ زرتشت کا یا رامچندر کا یا کرشن جی کا یا بدھ فرمان ہو۔غرضیکہ اللہ کوراضی کرنے کے لیے اور مخلوق پر شفقت کرنے کے لیے کوئی قانون نہیں جو قرآن میں اتم طور پر اس کا بیان نہ ہو۔میں تو بڈھا ہوگیا ہوں اور سب کو پوچھتا ہی رہا ہوں مگر کسی نے بیان نہیں کیا۔اب تم لوگوں کا کام ہے تم کسی سے پوچھو۔ایک شخص عزیز مرزا نے ایک مضمون لکھا تھا کہ میں نے بدھ کی کتاب میں ایک فقرہ دیکھا ہے جوکسی مذہب میں نہیں۔ہمارے میرمحمد اسحاق کو توفیق ملی، انہوں نے اس کا ایسا لطیف جواب دیا کہ عزیز مرزا کو ماننا پڑا کہ میں نے غلطی کی ہے۔میں نے میرصاحب کے لیے بہت دعا کی۔ایک دفعہ ایک شخص نے میرے سامنے کہا کہ خدا کی ایک صفت ہم ہندوؤں میں ہے جو قرآن میں نہیں ہے۔میں نے کہا وہ کیا ہے؟ اس نے کہا کہ ہم خدا کو باپ کہتے ہیں۔میں نے کہا کہ کیا یہ بڑی بات ہے، باپ کا تعلق بیٹے سے پچیس منٹ سے زیادہ نہیں ہوتا جو اوسط مدت امساک کی ہے اور اس عرصہ میں اس کو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ میں کیا دے رہا ہوں، لڑکا یا لڑکی اور وہ اس بات سے بھی بے خبر ہوتا ہے کہ اچھا ہوگا یا برا۔اس کے بعد پھر اس کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ اس کی پرورش کون کررہا ہے۔کیا باپ کے تعلقات ربّسے زیادہ ہوسکتے ہیں؟ ربّ کے ہم ہرآن میں محتاج ہیں۔وہ ہروقت ہماری پرورش کرتا ہے۔کھانا، پینا، روشنی، ہوا، آگ، سب اسی کا ہے۔اندر سے نکلنے والی کاربن بھی اسی کی ہے۔یہ سب ربّ کا فضل نہ ابّ کا۔مولوی عبدالکریم نے ایک بحث میں کیا لطیفہ فرمایا ہے کہ برہمو خدا کو ماں کہتے ہیں، آریہ باپ کہتے ہیں کیا اچھا ہو یہ دونوں آپس میں بیاہ کرلیں۔یہ میں نے اس واسطے کہا ہے کہ تب دوسروں سے ایسی تحدی کرو جب پہلے تم کو قرآن کا پورا علم ہو۔(نور) (الحکم جلد۱۶ نمبر۳۶ مورخہ ۲۱؍ نومبر ۱۹۱۲ء صفحہ ۳)