ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 211
عریضہ نمبر۱۔امر خلافت جو اسلام میں ہے ( خلافت سے میری مراد خلافت رسول صلعم ہے ) آیا یہ امر دین میں داخل ہے یا نہ۔جناب کی طرف سے جواب عریضہ نمبر ۱ خلافت امر دینی ہے۔سورہ ٔ نور میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں خلیفے مقرر کرتا ہوں جو انہیں نہ مانے وہ فاسق ہے۔عریضہ نمبر ۲۔کیونکر معلوم ہو کہ خدا نے کس کس کو خلیفہ مقرر کیا ؟ جواب عریضہ نمبر ۲ خلافت کا نشان وَلَیُمَکِّنَنَّ … میں دیا گیا ہے جس کو خدا خلیفہ بناتا ہے۔اس کی مخالفت میں کون کھڑا ہو سکتا ہے۔خد انے آدم کو خلیفہ بنایا، دائود کو خلیفہ بنایا، ابوبکر، عمر کو خلیفہ بنایا۔نورالدین کو خلیفہ بنایا۔کوئی مخالفت کر کے دیکھ لے کیا نتیجہ ہو تا ہے۔عریضہ نمبر۳۔جس کو کسی سے مخالفت نہ ہو وہ کیونکر معلوم کرے کہ خدا نے کس کو خلیفہ مقرر کیا۔آدم علیہ السلام اور دائود علیہ السلام کا نام قرآن پاک میں موجود ہے۔آنحضرت ؐ کے خلفاء کا نام قرآن پاک میں کہا ں ہے۔کیا خلیفے اجماع سے بنائے گئے ہیں یا نہیں جیسا کہ کتب اہل سنت والجماعت سے پایا جاتا ہے اور اجماع کے وقت کتنے اصحاب موجود تھے اور وہ کون کون تھے؟ جواب نمبر۳۔قرآن شریف میں خلفاء رسول صلعم کا نام نہیں اگر ہوتا تو یہی نام لوگ اپنی اولاد کا رکھ لیتے۔ان کی نشانی ہے کہ وہ کامیاب ہو تے ہیں۔عریضہ نمبر۴۔نہ معلوم جواب نمبر۳ سے جناب کا کیا مطلب ہے۔اگر یہ مراد ہے کہ ایسے ناموں والے اشخاص کا دعویٰ کر دیتے تو یہ امر ناممکن معلوم ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کا دعویٰ صرف نام ہی کی وجہ سے پایۂ ثبوت کو پہنچتا جس طرح جناب فرماتے ہیں کہ اُن کا نشان دیا گیا ہے۔اگرنام بھی دیا جاتا تو کیا حرج تھا کیونکہ نام و نشان دونوں مل کر خلیفہ کا پورا پتہ لگا دیں۔جناب نے فرمایا ہے کہ اُن کا نشان ’’کامیابی ‘‘ہے۔ارشاد ہو کہ کامیابی سے جناب کی کیا مراد ہے۔جناب کس کامیابی کی طرف اشارہ فرماتے ہیں۔(۱) ملک گیری میں کامیاب ہونا۔(۲)لڑائیوں میں کامیاب ہونا۔اگر یہی دو صورتیں مراد ہیں تو ظاہر ہے کہ آج جو ملک گیری اور لڑائیوں میں کامیاب ہو وہی خلیفہ ہو اور اگر کوئی اور کامیابی مراد ہے تو ارشاد فرماویں کونسی کامیابی ہے اور اس کامیابی میں ظاہراً