ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 206 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 206

بعض بیویوں سے جماع نہیں کرتے۔گھر نہیں بناتے۔سیاحت ہی میں ہمیشہ رہتے ہیں۔بعض بولنا چھوڑ دیتے ہیں۔بعض سونا چھوڑ دیتے ہیں۔بعض ایسے ہیں کہ وہ طیب چیزوں کو خراب کر کے کھاتے ہیں۔بعض لوگ ہیں … انہوں نے نہایت عمدہ پلائو میں راکھ ملا کر کھائی۔ایک شخص ہمارے یہاں ایک مسجد میںرہتا تھا اس نے ایک مٹکا بنا رکھا تھا۔وہ ہر ایک قسم کا کھانا، کھٹا ، میٹھا ، سبزی وغیرہ اس میں ہی بھر دیتا تھا وہ سب سڑ جاتا تھا اور جب اس کو بھوک لگتی تو وہ اسی کو کھاتا اور چونکہ وہ سڑ کر ایک قسم کی شراب ہو جاتی تھی اس لئے وہ ہمیشہ نشہ میں چو ررہتا تھا اور آنکھیں سرخ رہتی تھیں لوگ اُس کے بڑے معتقد تھے۔ہمیں ایک شخص نے کہا کہ تم اس کو نہیں مانتے۔ہم نے کہا کہ کیا مانیں وہ تو شراب پیتا ہے او رمسجد میں بیٹھ کر پیتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ (المائدۃ :۸۸)۔ایک تو ایسے ہیں کہ انہوں نے طیبات کو ترک کر دیا ہے اور ایک گروہ حرام کر کے کھاتی ہے۔میرے خیال میں وہ لوگ جو اپنی ڈیوٹی پورے طور سے ادا نہیں کرتے وہ حکیم جو روپیہ بیماروں سے لے لیتے ہیں مگر ان کا علاج نہایت غور و توجہ سے نہیں کرتے سب حرام خور ہیں۔اس لئے کہا۔حلال چیزوں کو حرام کر کے مت کھائو۔اَلْخَمْرُ جِمَاعُ الْاِثْمِ (سنن الدار قطنی کتاب الاشربۃ و غیرہا)۔شراب تمام بدیوں کی جامع ہے۔سوالات کے جوابات ایک شخص کے چند تحریری سوالات حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں پیش ہوئے۔وہ سوالات بمعہ جوابات از جانب حضرت صاحب فائدہ عام کے واسطے درج ذیل کئے جاتے ہیں۔سوال (۱) نماز کے بیچ میں ہوا آ جاوے تو وضو پھر کیا جاوے یا نہیں؟ بار بار آوے تو روکنا جائز ہے؟ جواب۔جس کو بار بار ہوا آوے اُسے ایک بار وضو کر کے نماز شروع کر دینا چاہیے۔بار بار توڑ