ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 179
اُس کی والدہ نہایت ہی مخلص ہے۔حضو رنے فوراً مرحوم کے لئے دعا فرمانی شروع کر دی اور فرمایا کہ اس کو ہم سے تعلق تو تھا۔اگر اس سے لغزشیں ہوئیں خدا تعالیٰ ہر شخص کی خطا ئوں کو معاف کرنے والا ہے۔پھر فرمایا کہ وہ شخص ہمارے پاس شرم کی وجہ سے نہیں آ سکا۔کون لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں حضرت خلیفۃ المسیح نے ایک شخص کے خط کے جواب میں تحریر فرمایا۔پیارے مخدوم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔میں نے بَحَمْدِاللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ بچپن سے قرآن کریم کو پڑھا ہے اور بتدریج اُس کی فہم میں ترقی کی ہے اور کرتا ہوں۔مجھے جو کچھ ملا ہے اور ملتا ہے وہ سب قرآن مجید سے ملا ہے اور میں ایک آیت پیش کرتا ہوں اُس پر آپ اور اَور علماء قرآن دان غور فرماویں۔ (العنکبوت :۵۲)۔اس میں کا لفظ قابل غور و فکر ہے۔آہ! کون فکر کرے۔کون ذکر سے فائدہ اُٹھاوے۔مجھے ایک لمبا خط عزیز نے لکھا۔رمضان شریف کے باعث کسل ہوا۔پھر وہ گم ہو گیا۔ہر چند جستجو کی پتہ نہ لگا۔اس میں پہلے صفحہ کا مضمون یاد ہے۔’’کیمیا، سیمیا، ریمیا، ہیمیا وجفر آپ کو جو آتے ہیں کیا دوسرے کو سکھا سکتے ہیں۔دوسرا مولوی … یا سائیں … اور مخدوم … کو کیا فائدہ آپ سے ہوا۔‘‘ جواب۔اوّل میں بھیرہ میں پیدا ہواوہاں جوان ہوا وہاں کفر کے فتوے لگے وہاں میں معزز ہوا مگر مجھے ان واہیات سے ذرا تعلق نہ ہوا۔وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ میں نے اپنے لئے نہ کسی سے وہاں مانگا اور نہ میرے دل نے خواہش کی۔وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ کی تعلیم کا نتیجہ سچا دیکھتا رہا۔سوال در سوال میں یہ بھی تھا کہ تمہاری مریدی اور دوسروں کی مریدی میں فرق کیا ہے تو اس کا صاف جواب قرآن مجید میں ہے۔دیکھو پارہ نمبر۹ سورہ اعراف نمبر۷ رکوع ۹/۱۹