ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 154 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 154

پڑھو۔جب ایسے قصے آویں انہیں چھوڑ دو۔معلوم ہوتا ہے کہ یہود اور نصاریٰ اور مجو سیوں نے وہ قصے ڈال دئیے ہیں۔قصوں کی وہ بھرمار ہے کہ ہم اصل قرآن تو پڑھ ہی نہیں سکتے۔ہزار در ہزار ورق لکھ دئیے ہیں۔نعوذ باللہ ایک کہانی ایک آیت پر یہ لکھ دی گئی ہے کہ ایک چار پائی پر ایک بادشاہ بیٹھ گیا۔چارپائی کے ساتھ لمبے لمبے بانس باندھ دئیے اور گرجھیں ( گدھیں ) بھی باندھ دیں۔وہ اُس کا کھٹولا ہی اُڑا کر آسمان کی طرف لے گئیں۔اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ خاص فضل کیا ہے میں تو ان لغو باتوں کے نزدیک بھی نہیں آ سکتا۔اب لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا خدا جھوٹ بھی بول سکتا ہے۔پہلے خدا کے بولنے کا تو فیصلہ کرو کہ آیا بولتا بھی ہے یا نہیں۔اب پوچھتے ہیں کہ اگر خدا بروں کو دوزخ میں ڈالنے کا وعدہ کرتا ہے تو کیا نیکوں کو نہیں ڈال سکتا۔میں خدا کے فضل سے اس پر بحث کر سکتا ہوں۔میں نے قرآن کی غرض سمجھی ہوئی ہے مگر لوگوں نے قرآن کی اور ہی غرض سمجھی ہے۔بعض سمجھتے ہیںکہ قرآن میں صیغے عجیب عجیب ہیں۔وہ حل ہو جاویں۔یتقہ کا صیغہ کیا ہے۔کوئی کہتا ہے اس میں ترکیبیں مشکل ہیں وہ حل کی جاویں۔اگر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو دوزخ میں ٹھونسنا ہے اور بدکاروں کو جنت میں بھیجنا ہے تو اس قرآن کا آنا تو خاک میں مل گیا۔اللہ تعالیٰ کی شناخت میں بھی لغو سے بہت کام لیا گیا ہے۔بعض ع خود کوزہ و خود کوزہ گَر و خود گِلِ کوزہ وغیرہ کہتے ہیں پھر عیسائی اس قاعدے پر چلے ہیں کہ خدا مجسم ہو سکتا ہے جیسا کہ وہ ہوا۔پھر ہندو کہتے ہیں کہ خدا ایک سنسار بنا پھر کچھو کماں۔پھر ایک دفعہ سؤر بن گیا۔چنانچہ کہتے ہیں۔کچھ مچھ دراہ تُوں یعنی سؤر۔ژا شنگھ تُوں یعنی شیر بھی تو ہی ہے۔میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور اپنے بڑھاپے کو حاضر کرتا ہوں۔میں ہر رات کو یہ خیال کرتا ہوں کہ شائد میں صبح کو ہوں گا یا نہ۔میں تم کو کہتا ہوں کہ یہ باتیں بالکل بیہودہ ہیں۔نہ ہمارے دین کے کام کی ہیں نہ دنیا کے کام کی نہ صحت کے کام کی۔صحابہ۱ ، ائمہ حد۲یث، ائمہ۳ فقہ، ائمہ۴ تصوف چاروں قسم کے لوگوں نے قطعاً یہ بحثیں نہیں کی ہیں۔جب مسلمان لوگ فاتح ہو گئے اور ہزاروں کتابیں دیکھیں تو وہ باتیں اپنی کتابوں میں لکھ