ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 153
لغو سوالات سے پرہیز چاہیے ۱۸ ؍مارچ ۱۹۱۲ء بوقت درس قرآن مجید بعد مغرب ایک مولوی صاحب نے جو ہندوستان کے مدرسوں سے فارغ التحصیل ہو کر قادیان میں بارادہ بیعت آئے ہوئے تھے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ جو فرماتا ہے کہ (الرعد :۳۲) تو کیا وہ اگر چاہے تو کفار کو جنت میں اور مومنوں کو دوزخ میں نہیں ڈال سکتا؟ اس پر بڑے جوش اور کمال دلسوزی اور ہمدردی سے حسب ذیل تقریرفرمائی۔میں ایک بات کی طرف متوجہ کرتا ہوں۔خوب سنو۔چھوٹے ہو یابڑے، جوان یا بڈھے خواہ سبق لمبا ہی ہو جاوے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (المؤمنون :۲ تا۴)۔مظفر ومنصور وہی مسلمان ہوتا ہے جو لغو سے بچتا رہے۔یہ ایک معرفت کا نکتہ ہے۔جب تک یہ عادت ان میں نہ ہو گی کامیاب نہ ہوں گے مگر اب اسلام میں کیا کیا فضول بحثیں چلی ہیں۔اوّل۔حضر ت آدم ؑ بہشت میں پیدا ہوئے یا زمین پر۔(۲) حوّا آدم سے نکلی یا آدم حوّا سے۔(۳) آدم کا بدن کس شکل کا تھا۔(۴) کپڑے کیسے تھے۔(۵) وہ درخت کیسا تھا (۶) شیطان کیا چیز ہے۔(۷) آدم کو جب دھکہ دیا گیا تھا وہ کہاں اُترا تھا۔(۸) حضرت نوح کی کشتی کس لکڑی کی تھی۔(۹) وہ جانور جو پتہ لگانے کے واسطے گیا تھا وہ کون تھا۔(۱۰) اس کشتی میں ہاتھی گھوڑے سب کچھ ڈالے گئے۔گویا سارا جہان ہی ہوا۔(۱۱) حضرت موسیٰؑ کی لاٹھی کس درخت کی تھی۔(۱۲) حضرت موسیٰؑ کا قد کتنا لمبا تھا۔کہتے ہیں کہ ستر ہاتھ لاٹھی تھی اور ستر ہاتھ حضرت موسیٰ کاقد تھا اور ستر ہاتھ اُچھل کر عوج بن عنق کو مارا مگر اُس کے گِٹے (ٹخنے ) پر لگی۔گویا اس کا ٹخنہ ۲۱۰ ہاتھ زمین سے اونچا تھا۔اور اب دریائے نیل پر اس کی ٹانگ کی نلی کا پل بنا ہوا ہے اور جب نوح نبی کی لہر آئی تو عوج مذکور کو گِٹے گِٹے آئی۔غرضکہ بڑے بڑے لمبے قصے کئے گئے ہیں۔میں تو ایسے مسئلوں سے دنیا میں آگے ہی گھبرایا ہوا ہوں۔اب میں بڈھا ہوں۔میں نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ کی کتاب میں لغو سے کام نہ لو۔تفسیریں