ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 136
چلے جاتے ہیں اور اصل عبارت کا پتہ بھی نہیں ہوتا۔ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمے کرنے سے فرق پڑ پڑ کر کچھ کا کچھ بن جاتا ہے مگر وہ اُس کو کلام الٰہی کہہ کہہ کر تھوڑی تھوڑی قیمتوں پر فروخت کرتے رہتے ہیں۔فَتَحَ اللّٰہُ کے معنے پیشگوئیوں کے ہیں۔کھولا اللہ نے تم پر۔نیم ایرین۔براھمو بلٰی۔پیشگوئی ہے۔رکوع ۱۰ آیت۱۔ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو۔جب عہد لیا ہم نے بنی اسرائیل سے کہ تم خدائے واحد کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرنا اپنے والدین کے ساتھ احسان کرنا اور اپنے قریبی رشتہ داروں یتیموں ، مسکینوں کو بھلی باتیں بتلائو اور نیک سلوک کرو ا ور نماز کو مع پابندی ارکان کے قائم رکھو۔زکوٰۃ دیتے رہو مگر افسوس ہے کہ تم میں تھوڑے لوگ ایسے تھے جو اپنے عہد پر قائم رہے باقی سب کے سب بدل گئے۔قرآن شریف میں اس قصہ کو بیان کرنے سے ایک تو پیشگوئی کا اظہار کرنا تھا کہ تم ایک زمانہ میں چل کر بد عہد ہو جائو گے۔دوسرے مسلمانوں کو تاکید اس امر کی گئی کہ دیکھو ایسا نہ ہو کہ کہیں تم بھی یہود جیسی کرتوتیں کرنے لگو مگر افسوس کہ مسلمانوں نے سب کچھ بھلا دیا اور وہی روش اختیار کی جس سے ان کو منع کیا گیا تھا۔۔پختہ وعدہ۔نبی کریم نے بھی تمام اقوام سے وعدہ لیا۔۔اَقَمْتُ۔یتیم۔اکیلا ہونا۔تم سے عہد لیا کہ تم خونریزی نہ کرنا اور آپس میں ایک دوسرے کو اس کے گھر سے نہ نکالنا۔مگر افسوس کہ تم نے باوجود اس عہد کو جاننے اور سمجھنے کے خونریزی بھی کی اور اپنے اہل برادری کو شرمندہ